معروف فلسطینی اسیر رہنما صہیونی عقوبت خانوں میں انیس سال مکمل کر کے اسیری کے بیسویں سال میں داخل ہو گئے ہیں۔ فلسطینی امور اسیران کےتحقیق کار ریاض اشقر کے مطابق طاھر محمد طاھر زیود کو ایک حملے میں متعدد اسرائیلی فوجیوں کو زخمی کرنے کے الزام میں چھ فروری 1993 کو گرفتار کیا گیا تھا۔
ان کی گرفتاری کے چھ ماہ بعد ان کے والد وفات پا گئے تھے۔صہیونی فورسز نے نا صرف طاھر زیود کو حراست میں لے رکھا ہے بلکہ اس عرصے میں ان پر طرح طرح کے مظالم بھی توڑے جا رہے ہیں۔ گزشتہ دس سالوں سے صہیونی جیل انتظامیہ سکیورٹی انتظامات کے مضحکہ خیز بہانے بنا کر انہیں اپنے کسی بھی رشتے دار کی ملاقات سے محروم رکھے ہوئے ہے۔
اپنی انیس سالہ اسیری کے دوران طاھر زیود کئی جیلوں کی انتظامیہ کے سخت رویوں کا تجربہ حاصل کر چکے ہیں۔ انہیں ان جیلوں میں کہیں قیدتنہائی کی سزا تو کہیں بہیمانہ تشدد پر مشتمل صہیونی ہتھکنڈوں کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ مختلف جیلوں میں صہیونی مظالم کے خلاف بھوک ہڑتال کرکے احتجاج بھی کر چکے ہیں۔
فلسطینی امور اسیران کے تحقیق کار ریاض اشقر نے اسرائیلی جیلوں میں موجود فلسطینی اسیران کی تفصیلات بھی فراہم کی ہیں۔ ان کے بہ قول اس وقت ساڑھے چار ہزار سے زائد فلسطینی صہیونی عقوبت خانوں میں غیر انسانی سلوک کا سامنا کر رہے ہیں۔ قیدیوں میں چھ خواتین اور 140 بچے بھی شامل ہیں۔
اسرائیل نے انتہائی ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ستائیس فلسطینی اراکین پارلیمان کو بھی حراست میں لے رکھا ہے۔ ان اراکین پارلیمان میں تین سابق وزراء سمیت فلسطینی پارلیمان کے حالیہ اسپیکر ڈاکٹر عزیز دویک بھی شامل ہیں۔ اسرائیلی انتظامیہ نے 280 فلسطینیوں کو بغیر کسی فرد جرم کے محض انتظامی حراست میں بھی لے رکھا ہے۔

