اقصٰی فائونڈیشن برائے اوقاف و ورثہ نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل مسجد اقصٰی کو صیہونی رنگ میں رنگنے کی کوشش میں مسجد کے نزدیک دو عمارات کی تعمیر کرنا چاہتا ہے۔
فائونڈیشن نے منگل کے روز جاری کردہ ایک بیان میں بتایا کہ یہ فیصلہ تعمیراتی بولیوں میں تبدیلی کے نتیجے میں سامنے آیا ہے جس کا مقصد ہے کہ مسجد اقصٰی کے نزدیکی علاقوں کو صیہونیت میں رنگنا اور انہیں یہودی بستیوں کی چوکیوں کے ایک سلسلے سے جوڑنا ہے جو کہ مبینہ یہودی معبد کی عمارات کے طور پر کام آئیں گی۔”
فائونڈیشن نے خبردار کیا کہ ان یہودی مراکز کی تعمیر کا مقصد مسجد اقصٰی اور اس کے ملحقہ علاقوں کو نشانہ بنانا ہے۔ اقصٰی فائونڈیشن کے مطابق اس منصوبے کی تعمیر چھ دونم زمین پر کی جائیگی جو کہ 1967 کی جنگ میں اسرائیلیوں نے اپنے قبضے میں لی تھی۔
اس علاقے کو سال 2002ء سے اسرائیلی کھدائیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس موقع پر عرب عثمانیہ، امیہ اور عباسی خاندانوں کے وقت کے اثاثے نکالے گئے تھے جن میں سے کئی کو تباہ کردیا گیا جب کہ باقیوں کو اسرائیلی آثار قدیمہ نے اپنے پاس رکھ لیا ہے۔
اقصٰی فائونڈیشن کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اور وزیر داخلہ جدعون ساعر نے متعلقہ پارٹیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قابض اسرائیلی حکام، مقبوضہ بیت المقدس کی اسرائیلی بلدیہ اور ایلاد بستی کی تنظیم کے تعاون سے جاری کئے گئے ٹینڈرز کی تکمیل کریں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
