اسرائیل میں یہودی آباد کاری کے خلاف سرگرم تنظیم” Now Peace ” نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ بیت المقدس میں اسرائیلی میئر نیربرکات نے شمالی بیت المقدس میں عیسویہ قصبے کی 600 دونم اراضی عارضی طورپر ایک پارک کی تعمیر میں لگانے کے لیے قبضے میں لینے کا حکم دیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی کنیسٹ نے ایک قانون منظور رکھا ہے جس کے تحت فلسطینیوں کی اراضی اور دیگر املاک کو کم سے کم پانچ سال کے لیے عوامی بہبود کے مقاصد کے لیے استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔ نیر برکات نے اسی قانون کا سہارلیتے ہوئے عیسویہ کی سینکڑوں ایکڑ اراضی پرایک پارک بنانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ قانون محض ایک ڈھونگ ہے کیونکہ ایک بار قبضے میں لینے کے بعد فلسطینی اراضی اور دیگراملاک واپس نہیں کی جاتیں اور قبضے کو مستقل کرنے کے لیے دیگرقوانین کا سہارا لیا جاتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک ماہ قبل اسرائیلی بلدیہ نے مذکورہ راضی کے تمام درخت کاٹ ڈالے تھے۔ صہیونی حکام کا کہنا تھا کہ وہ وہاں پرکچھ تعمیرات کرنا چاہتے ہیں جس کے لیے درخت کاٹے گئے ہیں۔
یہودی انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ بیت المقدس کی بلدیہ عیسویہ اور الطور میں قائم یہودی کالونیوں کو مزید وسعت دینے سےروکنے کے لیے پارک بنا رہے ہیں تاہم کسی بھی وقت مرکزی حکومت اس پارک کی جگہ یہودی آباد کاری کا بھی حکم دے سکتی ہے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ عیسویہ کی اراضی کے مالکان نے اسرائیلی قبضے کی سازش کو مسترد کردیا ہے۔ تاہم صہیونی حکومت کی جانب سے مالکان کویقین دلایا گیا ہے کہ پانچ سال کی مدت پوری ہونے کے بعد انہیں اس زمین پراپنی مرضی کے مطابق تعمیرات اور دیگر تصرفات کا حق حاصل ہوگا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
