• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

اسرائیلی حملے میں شدید زخمی فلسطینی بچی کی میٹرک کے امتحان میں شاندار کامیابی

ہفتہ 04-07-2015
in فلسطین
0
plf matric-success
0
SHARES
2
VIEWS

پچھلے سال جولائی اور اگست کےدوران صہیونی فوج نے فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی پر مسلط کی گئی جنگ کوایک سال ہوچکاہے۔ اس جنگ کی ہولناک یادیں اہل فلسطین کے لیے آج بھی تازہ ہیں مگرغزہ کی پٹی کی ایک سترہ سالہ بچی نےاسرائیلی بمباری میں شدید زخمی ہونے کے میٹرک کے امتحان میں پہلی پوزیشن حاصل کرکے نہ صرف اپنی محنت کا لوہا منوا لیا ہے بلکہ اس نے یہ ثابت کیا ہے کہ صہیونی ریاست کا جبر وتشدد فلسطینیوں کو روشن مستقبل سے محروم نہیں کرسکتا ہے۔

مرکزاطلاعات فلسطین نے اس بہادر فلسطینی بیٹی کے ساتھ پیش آنے والے دردناک واقعات اور اس کی شاندار کامیابی کا احوال بیان کیا ہے۔حنان انور عبدالغفور نامی یہ بچی غزہ کی پٹی کے جنوبی شہر خان یونس سے تعلق رکھتی ہے۔ اس نے پورے خان یونس میں 99.1 فی صد نمبر حاصل کرکے پہلی پوزیشن حاصل کی جب کہ مجموعی طورپر اس نے غزہ کی پٹی میں 98.1 فی صد نمبر لےکربہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور وہ ٹاپ 10 میں شامل ہوگئی ہے۔

حنان کی تعلیمی کارکردگی اور اس کے ساتھ ایک سال پہلے پیش آنے والے واقعے کا اگرچہ باہمی طورپر کوئی تعلق نہیں لیکن اس کی تعلیمی کامیابی نے اس کے اور اہل خانہ کے دکھ درد بھلا دیے ہیں۔

دردناک واقعے کی کچھ یادیں

یہ 23 جولائی 2014 ء کی صبح تھی جب حنان اپنی والدہ کے ہمراہ سحری کے بعد سو رہی تھیں۔ حنان کے والد انور عبدالکریم اور دوسرے افراد ایک اور مکان میں چلے گئے تھے۔ اسرائیلی فوج مسلسل بمباری کررہی تھی، لیکن اس کے باوجود وہ اپنے گھرمیں ہی رک گئی تھیں۔ اچانک اسرائیل کے ایک بغیر پائلٹ ڈرون طیارے نے ان کے مکان پرمیزائل داغا جس کے نتیجے میں مکان ریزہ ریزہ ہونے کے بعد دونوں ماں بیٹی کےاوپر آ گرا۔

حنان کی والدہ نے یہ سارا دردناک واقعہ خود "مرکزاطلاعات فلسطین” سے بیان کیا اور بتایا کہ وہ دونوں سوچکی تھیں۔ ان کی آنکھ اس وقت کھلی جب ان کے مکان پر میزائل گرا اور اس کے ساتھ ہی وہ ملبے تلے دب گئیں۔

والدہ نے بتایا کہ مکان کے ملبے تلے دب جانے کےبعد زندہ بچنے کی امید نہ رہی تھی کیونکہ ملبے کا بوجھ ناقابل برداشت ہوتا جا رہا تھا۔ میں کلمہ شہادت کا ورد شروع کردیا۔ کچھ دیر بعد مجھے بیٹی [حنان] کی نحیف سی آواز سنائی دی۔ تب مجھے خیال آیا کہ وہ بھی میرے ساتھ اس ملبے تلے دب چکی ہے۔ میں نے اسے بھی کلمہ طیبہ کا ورد کرنے کو کہا۔ اس کے کراہنے کی آواز کچھ دیربعد بند ہوگئی۔ میں نے یقین کرلیا کہ بیٹی شہید ہوچکی ہے۔

حملہ ہوتے ہی حنان کے والد جو قریب ہی ایک دوسرے مکان میں تھے دوڑتے ہوئے آئے، پڑوسیوں نے بھی ان کی معاونت کی اور انہوں نے حنان اور اس کی والدہ کو شدید زخمی حالت میں ملبے تلے سے نکال لیا۔ دوں ماں بیٹی کئی ماہ تک اسپتال میں زندگی اور موت سے لڑتے ہوئے بالٓآخر دوبارہ زندگی کی طرف لوٹنے میں کامیاب رہیں۔ حنان نے شدید زخمی ہونے کے باوجود اپنی پڑھائی میں کوئی کوتاہی نہیں برتی بلکہ تمام ترمشکلات کے باوجود وہ گھر میں بیٹھ کر امتحان کی تیاری کرتی رہی۔

حنان کی والدہ نے بتایا کہ ایک سال قبل انہیں انہی ایام میں ایک نہایت دردناک اور المناک واقعے سے گذرنا پڑا تھا۔ آج بیٹی نے اپنی محنتِ شاقہ سے ایک سال پیشتر کے دردناک واقعے کے دکھ درد ختم کردیے ہیں۔ ہرطرف سے ہمیں بیٹی کی شاندار تعلیمی کارکردگی پر مبارک بادیں وصول ہو رہی ہیں۔ حنان نے غزہ کی پٹی میں 98.1 اور خان یونس شہر میں 99.1 فی صد نمبر لے کرشاندار کامیابی کا مظاہرہ کیا ہے اور اس نے ہمارے سرفخر سے بلند کردیے ہیں۔

پہلی پوزیشن میرا خواب تھا:حنان

اسرائیلی فوج کے وحشیانہ حملے میں شدید زخمی ہونے والی حنان انور سے جب اس کے جذبات کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ "میٹرک میں پہلی پوزیشن حاصل کرنا میرا دیرینہ خواب تھا اور نے یہ عزم صمیم کررکھا تھا کہ مجھے ہرصورت میں پوزیشن حاصل کرنا ہے۔ چنانچہ میرے عزم کے سامنے کوئی چیز رکاوٹ نہیں بن سکی اور میں اللہ کے فضل وکرم اور والدین کی دعائوں سے اپنے مشن میں کامیاب رہی ہوں”۔

حنان نے کہا کہ میری کامیابی قابض اسرائیل کے لیے بھی ایک پیغام ہے کہ ہم نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بہتر سے بہترین کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ہم ملبے تلے سے سائنسدان پیدا کررہے ہیں”۔

نائلہ اپنے تباہ شدہ مکان کے ملبے پربنائے گئے عارضی شیلٹر کے باہر کھڑی نہایت خود اعتمادی کے ساتھ بولی کی "شاندار کامیابی اتنا آسان کام نہیں۔ سردیوں میں ٹھٹھڑتی راتیں اور گرمیوں میں جھلسا دینے والی دن رات کی گرمی اور پھر نائلون اور اسٹیل کی چادروں سے بنا عارضی شیلٹر اور اس کے اندر وقت گذرانا، واقعی ایک صبر آزما کام ہے لیکن میرے پختہ ارادے اور والدین کی طرف سے صبرکی تلقین نے مجھے یمیشہ حوصلہ دیا۔

حنان کی والدہ نے بتایا کہ بیٹی نے چونکہ آرٹس کے شعبے میں پوزیشن حاصل کی ہے۔ اس لیے اب وہ جامعہ اسلامیہ غزہ میں انگریزی لٹریچر میں داخلہ لے گی۔ حنان نے نہ صرف میٹرک کے امتحان میں شاندار کامیابی کا مظاہرہ کیا ہے بلکہ اس کی اب تک تعلیمی کارکردگی تواتر کے ساتھ 99 فی صد رہی ہے۔

حنان کا کہنا ہے کہ وہ طب کی تعلیم بھی حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ وہ پرامید ہیں کہ اگلے کسی مرحلے میں وہ طب کی طرف بھی لوٹیں گی اور اس میدان میں بھی حسب معمول شاندار کارکردگی دکھا کر صہیونی ریاست کو چلینج کریں گی۔

 

بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.