قابض اسرائیلی فوج نے فلسطینی بچوں اور کم سنوں کو ان کی مائوں سے دور کرنے کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے فلسطینی بچوں کو قید خانوں میں ڈال کر تفتیشی عمل سے گزارا جاتا ہے۔ مقبوضہ بیت المقدس اور مغربی کنارے کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے بچوں کے ایک گروپ نے ہفتے کے روز وزارت اسیران کے وکیل کو اپنی قید کے ہوش ربا واقعات سے آگاہ کیا ہے۔
وزارت کے وکیل نے 17 سالہ ایمن سمیح عباسی کے حوالے سے بتایا کہ۔” مجھے قید کے دوران ہاتھوں اور پائوں پر زنجیر باندھی جاتی تھی اور ایک چھوٹی سی کرسی سے باندھ دیا جاتا تھا۔”
عباسی کے مطابق انہیں 18 ستمبر کو شدید ٹھنڈے موسم میں قید تنہائی کی سزا پر احتجاج کرنے پر شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ فوجیوں نے انہیں باتھ رو میں لےجا کر انہیں زبردستی کپڑے اتار کر ننگا کھڑا رہنے پر مجبور کیا گیا۔
اس کے علاوہ 16 سالہ فلسطینی اسیر خالد جمال حسینی کو بھی زنجیروں اور آںکھوں پر پٹی باندھ کر حراست میں لیا گیا۔ مسقوبیہ حراستی مرکز لے جاتے ہوئے خالد کو جیپ میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ جب خالد نے ان سے پانی مانگا تو پھر اس کے منہ پر پانی کے قطرے پھینکے گئے۔
اس کے علاوہ نابلس سے تعلق رکھنے والے 17 سالہ احمد غازی حافظ عدیلی نے بتایا کہ انہیں ہتھکڑی اور آنکھوں پر پٹی لگا کر حوارہ حراستی مرکز لے جایا گیا جہاں انہیں جیل کے محافظوں نے تشدد کا نشانہ بنایا۔ ایک فوجی نے تو انہیں ایک چھڑی سے ان کے سر اور کانوں پر اس قدر زور سے مارا کہ ان کے کار کا پردہ پھٹ گیا اور وہ سننے کی صلاحیت کھو بیٹھے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
