فلسطین کی مختلف سماجی تنظیموں اور انسانی حقوق کے گروپوں نے اسرائیلی جیل میں سنہ 2009ء سے مسلسل انتظامی حراست میں رکھے گئے
باون سالہ فلسطینی حسام حرب کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے حسام حرب کی مسلسل گرفتاری اور انتظامی حراست میں باربار کی توسیع کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسےعالمی قوانین کی تضحیک قرار دیا ہے۔
فلسطین میں اسیران کی بہبود اوران کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم” مرکزاحرار” کے ڈائریکٹر فواد الخفش نے اتوار کو رام اللہ میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ انتظامی حراست میں رکھے گئے حسام حرب کی دسویں مرتبہ حراست میں توسیع کی گئی ہے۔ وہ سلفیت سے تعلق رکھتے ہیں اور ضلع کے ایک سماجی رہ نما ہیں۔ انہیں ماضی میں بھی کئی مرتبہ حراست میں لیا گیا تاہم ان پر کوئی مقدمہ نہیں کیا گیا اور نہ عدالت میں پیش کیا گیا۔ انسانی حقوق کی تنظیم کے رہ نما نے کہا کہ اسیر کی اہلیہ نے اپنے محروس شوہر کےحوالے سے سخت تشویش کا اظہار کیاہے۔ محروس کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ قابض صہیونی انتظامیہ ان کے شوہر کو طویل عرصے تک بغیر کسی مقدمہ اور الزام کے حراست میں رکھ کر ان کے خاندان کو تباہ کرنا چاہتی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم کے عہدیدار نے بتایا کہ اسرائیل کی جیلوں میں اب بھی کوئی 300 ایسے اسیران موجود ہیں جنہیں بغیر کسی مقدمہ کے حراست میں رکھا گیا ہے۔ان میں کئی فلسطینی مجلس قانون ساز کے اراکین بھی شامل ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

