اسرائیلی حکام نے فلسطین کے ایک پرانے اسیر احمد نبھان صقر کو بارہ سال جیل میں رکھنے کے بعد رہا کر دیا ہے۔ ان کا تعلق فلسطین کے مغربی کنارے کے شہر بلاطہ کے ایک مہاجر کیمپ سے بتایا جاتا ہے۔
اسرائیلی جیل مجد سے مرکز اطلاعات فلسطین کے ذرائع کو اطلاع ملی ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے اسیر صقر کی رہائی کا اچانک اعلان کیا گیا ہے۔ ان دنوں اس کی رہائی کے بارے میں کوئی بات چیت نہیں چل رہی تھی۔
خیال رہے کہ نبھان صقر نے پانچ سال بغیر کسی مقدمہ کے اسرائیلی میں قید کاٹی، جبکہ سات سال مقدمہ چلائے جانے کے بعد انہیں جیل میں رکھا گیا۔
سنہ 1989ء کے بعد سے 2008ء تک اسرائیلی فوج اور پولیس کی جانب سے فلسطینیوں کی گرفتاریوں کی مہمات کے دوران نبھان کو آٹھ مرتبہ گرفتار کیا گیا۔ دوران تفتیش اسے وحشیانہ تشدد کا بھی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے جہاں اسے سخت ترین اذیتیں بھی دی گئیں۔
اسیری کی صعوبتوں کے علاوہ شیخ صقر کےگھریلوحالات بھی نہایت پریشان کن رہے۔ ان کا ایک جواں سال بیٹا بیس سال کی عمرمیں کینسر کے موذی مرض کے باعث انتقال کرگیا، جس کے بعد ہی عرصہ بعد ایک ایک دوسرا بیٹا بھی چار سال کی عمرمیں وفات پاگیا تھا۔ شیخ نبھان صقر کی رہائی مشہور بھوک ہڑتالی اسیر اور اسلامی جہاد کے کمانڈر شیخ خضر عدنان کی رہائی کے کچھ ہی دیربعد عمل میں لائی گئی ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

