بیروت میں قائم زیتونہ تحقیقاتی و مشاورتی مرکز نے”اسرائیلی انتخابات کے ملکی سیاست اور تشکیل حکومت پر مرتب ہونے والے اثرات” کے عنوان سے اپنی 53 ویں تحقیقی رپورٹ گزشتپ روز جاری کی۔
:رپورٹ کا خلاصہرپورٹ کے مطابق اسرائیل میں ہونے والے حالیہ پارلیمانی انتخابات کے نتائج توقعات کے بالکل برعکس سامنے آئے ہیں۔ اسرائیل کے اکثر عوام کی جانب سے کہا یہ جا رہا تھا کہ دائیں بازو کی جماعتیں یا مذہبی جماعتوں کا پلڑا بھاری ہوگا، لیکن نتائج اس کے برعکس آئے۔ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کا سیاسی اتحاد اکیلا حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اس لیے حکومت سازی میں انہیں اپنے مخالف رائے رکھنے والی جماعتوں کے پاس بھی جانا ہوگا اور مذہبی جماعتوں جیسے ”شاس” ، ”یہدوت ہاتورہ” اور ”کادیما” کو بھی ساتھ ملانا پڑے گا۔ جس کے بعد بننے والی حکومت کا زیادہ مستحکم ہونا بھی مشکل دکھائی دے رہا ہے اور ممکن ہے کہ حکومت میں شامل ہونے والی جماعتیں اہم امور پر متفق بھی ہوجائیں، جیسے کہ تمام نوجوان کو زبردستی فوجی تربیت دینا، ریاست کے سیکولررائزیشن اور متوسط طبقے کی حالت پر زیادہ توجہ دینا جیسے اہم امور سیاستی جماعتوں کے سامنے ہیں۔ مگر بظاہر ایسا مشکل دکھائی دے رہا ہے، کیونکہ حریدیم فرقے کے پیروکار کسی صورت بھی فوجی تربیت حاصل کرنے پر تیار نہیں ہیں۔
بہرحال کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) کے انتخابات کے نتائج کا ملک کی سیاسی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں، پارلیمنٹ کی 120 نشستوں پر بنیامین نیتن یاہو کے سیاسی اتحاد ”لیکیوڈ” کو 31 میں کامیابی ملی ہے، جبکہ ”یش عتید” نے 19 سیٹیں جیتی ہیں۔ لیبر پارٹی کو 15، جوئش ہوم کو 12، شاس کو 11، یہدوت ہتورہ کو 7، مومنٹ پارٹی کو 6، میرٹس پارٹی کو 6، کدیما پارٹی کو 2، کنسولڈیٹ لسٹ عرب فار چینچ کو 4، ڈیموکریٹ فرنٹ کو 4 اور نیشنل ڈیموکریٹک ریلی کو بھی 4 نشستیں ملی ہیں۔ حالیہ انتخابات کے نتائج اسرائیل کی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی جماعتوں اور مذہبی جماعتوں کی توقعات کے بالکل برعکس آئے ہیں۔ ان دونوں قسم کی جماعتوں کو مجموعی طور پر 61 سیٹیں ملیں، جبکہ ان کے مدمقابل بائیں بازو کی جماعتوں کو 48 نشستوں میں کامیابی ملی، اس کے علاوہ عرب جماعتوں نے 11 نشستیں حاصل کیں۔ لیکن اس کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ کوئی خاص تبدیلی رونما نہیں ہوئی، آنے والی حکومت اور اس کی ترجیحات بھی وہی ہوں گی جو سابقہ حکومت کی تھیں، تاہم بعض چیزوں میں تبدیلی دیکھی جاسکتی ہیں، مگر وہ بھی کوئی اہم معاملات میں نہیں ہوگی۔
:نئی حکومت کے لئے داخلی چیلنجز
ان میں سے سب سے اہم چیز معیشت ہے، الیکشن مہم کے دوران تقریباً سبھی جماعتوں نے ملکی معیشت و اقتصادیات کو بہتر بنانے کے وعدے کئے تھے، اقتصادی بحران کی وجہ سے اشیائے صرف کی قیمتوں میں ہونے والے ہوشربا اضافے کی وجہ سے عوام کو کافی مشکلات کا سامنا ہے۔ حکومت کو سب سے پہلے اس چیلنج سے نمٹنا ہوگا۔ اس کے علاوہ آبادکاروں کا معاملہ بھی کافی اہم ہے، جس کی وجہ سے نیتن یاہو کی سابقہ حکومت کو بھی بین الاقوامی طور تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ علاوہ ازیں نیتن یاہو کے سیاسی اتحاد ”لیکوڈ” کے لیے حکومت سازی بھی ایک اہم مسئلہ ہوگی۔ انہوں نے ”اسرائیل اور ہوم” نامی سیاسی جماعت سے اتحاد کیا ہے، جس سے انہیں 31 نشستوں پر کامیابی ملی، وہ تنہا حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، اس لیے ایک تو انہیں اپنے سیاسی مخالفین سے بھی حمایت لینی پڑے گی۔
(دوسرا) یہ کہ ان کے سامنے یہ بھی ایک امتحان ہے کہ وہ انتہائی انتہا پسند مذہبی جماعتوں اور انتہائی سیکولر جماعتوں کو اپنا اتحادی بنالے جو بظاہر آگ اور پانی کو جمع کرنے کے مترادف ہے۔ سیکولر جماعتوں میں سرفہرست یائیر لبید کی جماعت یش عاتید ہے جبکہ انتہاپسند مذہبی جماعتوں میں شاس سرفہرست ہے۔ ان دونوں کے پاس کافی سیٹیں ہیں، جس کی تفصیل اوپر آچکی ہے۔ اس لئے نیتن یاہو کے لیے حکومت کی تشکیل بھی ایک مشکل مرحلہ ہوگا۔
:نئی اسرائیلی حکومت کو درپیش مسائل
(1) کساد بازاری کے باوجود متوسط طبقے کی بقا، اس طبقے کے لیے تمام تر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا نیتن یاہو حکومت کے لیے ایک چیلنج سے کم نہیں ہوگا، جس کا الیکشن مہم کے دوران اس سے وعدہ کیا گیا ہے۔
(2) اسرائیل کی سیکورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانا، خاص کرکے عرب میں بیداری کی تحریک اور مصر سمیت دیگر عرب ممالک میں جنم لینے والے انقلابات کے بعد اس حوالے سے کافی تشویش پائی جاتی ہے۔ شام میں جاری خانہ جنگی کے بعداسلام پسندوں کی حکومت کا ممکنہ قیام اور کیمیاوی ہتھیاروں کا ممکنہ طور پر شدت پسندوں کے ہاتھ لگنے کا خطرہ بھی اسرائیلی حکام کو درپیش ہے، اس کے علاوہ حزب اللہ کا خوف اور ایران کی ایٹمی ہتھیاروں تک ممکنہ رسائی بھی اسرائیل کے لیے ایک درد سر سمجھا جاتا ہے۔ پھر ایران کے حوالے سے اسرائیلی عوام کی آراء بھی متضاد ہیں، بعض افراد فوری طور پر ایران سے نمٹنا چاہتے ہیں اور بعض اس کے لیے مناسب وقت تک انتظار کرنے کی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں۔ نئی حکومت کو ہر ممکن کوشش کرنا ہوگی کہ کسی طرح ایران کی ایٹمی ہتھیاروں تک رسائی کو روک دے، نیتن یاہو خود بھی ایران کو ”شیطان” کہہ کر اس کا خاتمہ چاہتے ہیں اور صہیونی طبقہ بھی جلد از جلد اس خطرے سے نجات چاہتا ہے اور اسی میں اپنی بقا کا راز پوشیدہ سمجھتا ہے۔
(3) یہودی آبادکاری کا مسئلہ، اسرائیل کی تمام سیاسی جماعتیں چاہے ان کا تعلق دائیں بازو سے ہو یا بائیں بازو سے، سب یہودی آبادکاری کو اپنا بنیادی جائز حق سمجھتی ہیں۔ اس لیے فلسطینیوں کے ساتھ کوئی ایسا معاہدہ نہیں ہوسکتا، جس سے آبادکاری بند یا محدود ہوجائے اور یہودی آبادکاری کا معاملہ یورپی یونین اور امریکی سینیٹ کے سامنے بھی ایک مسئلہ بنا ہوا ہے، کیونکہ یہ معاملہ دو آزاد ریاستوں کے قیام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، اس لیے فلسطینیوں کے ساتھ اس معاملے کو نمٹانا نئی حکومت کے لیے ایک چیلنج ہوگا۔
(4) اسرائیل میں موجود عربوں کا مسئلہ، بظاہر ایسا لگتا ہے کہ نئی حکومت اس مسئلے کو نہیں چھیڑے گی، مقبوضہ فلسطین کے عرب باشندے اپنے علاقوں میں برقرار رکھے جائیں گے۔
(5) فلسطینیوں کے ساتھ مذاکرات کے لیے فائل منیجمنٹ، نیتن یاہو کی کوشش ہوگی کہ نئی حکومت میں وزارت خارجہ کا منصب اپنی پارٹی کے علاوہ کسی اور کو سونپیں، کچھ جماعتیں ایسی ہیں جو اس عہدے کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں، تاکہ اس حوالے سے وہ پارلیمنٹ کو جواب دہ ہی نہ ہوں، اس کے بعد وزارت خارجہ کو سنبھالنے والی پارٹی اپنے طور پر فلسطینیوں کے ساتھ مذاکرات کرے گی۔ پھر اگر لبید کی پارٹی وزارت خارجہ کو سنبھال لیتی ہے تو نیتن یاہو کو فلسطینیوں سے مذاکرات کرنے پر خوشی ہوگی، جو اگرچہ نہ مسئلے کا حل ہے اور نہ ہی یہ مذاکرات کا کوئی مستقل انجام ہے، لیکن نیتن یاہو کیلئے اپنی مدت حکومت پوری کرنا آسان ہو جائے گا۔ اس لیے فلسطینیوں کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے کسی کو خوش فہمی میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
:تجاویز اور سفارشات
(1) اسرائیل میں رہنے والے فلسطینیوں کو چاہیے کہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد و اتفاق کی فضا ہموار کرکے اپنی سیاسی پوزیشن کو مستحکم کرلیں تاکہ وہ اپنے جائز حقوق کے لیے صہیونی قوتوں سے عالمی، ملکی اور صوبائی بلکہ علاقائی طور پر مقابلہ کرسکیں۔
(2) فلسطینیوں کو چاہیے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ ہر قسم کے مذاکرات میں اپنے نکتہ نظر پر نظر ثانی کرلیں اور اپنے لئے نئے اسٹریٹیجک پالیسی متعین کرلیں تاکہ مزید یہودی آبادکاری اور قبضے کو روک سکیں۔
(3) فلسطین کی تقسیم کے حوالے سے فوری طور پر ایک قومی اتحاد بنانے کی شدید ضرورت ہے، تاکہ وہ صہیونی قبضے اور آبادکاری کے سامنے ایک رکاوٹ بن سکے۔
مرکز نے اس رپورٹ کی تیاری میں تعاون کرنے پر ڈاکٹر جونی منصور کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا ہے۔
