اسرائیلی چینل 2 نے بتایا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے ایک ہنگامی سیشن کے دوران یہ فیصلہ کیا تھا کہ اسرائیلی شہریوں پر حملہ کرنے والے فلسطینیوں کے گھروں کو مسمار کردیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق اس فیصلے سے 16 سالہ محمد ابو خضیر کو اغوا اور زندہ جلانے والے یہودی آبادکاروں کے گھروں کو مستشنٰی رکھا جائے گا۔
اس میٹنگ کے دوران نیتن یاہو نے بیت المقدس کے فلسطینی مظاہرین اور گرین لائن کے اندر رہنے والے فلسطینیوں کے خلاف مزید سخت اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
اس کے علاوہ مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی فوج کو بڑی تعداد میں تعینات کردیا گیا اور بیت المقدس کے مضافات میں مختلف مقامات پر ناکے لگا دئیے گئے۔
بیت المقدس کی اسرائیلی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے اقدامات کا مقصد جمعہ کے بعد پرتشدد تصادم کو روکنا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
