اسرائیلی جیل عوفرمیں گذشتہ 59 روز سے بھوک ہڑتالی فلسطینی اسیر الشیخ خضرعدنان کو رہا نہ کرنے اور جیل میں مسلسل تشدد کا نشانہ بنانے کے خلاف فلسطینیوں کا شدید احتجاج جاری ہے۔
پیر کے روز مقبوضہ فلسطین میں قائم بدنام زمانہ عوفرجیل کے باہر ہزاروں افراد نے شیخ عدنان کی رہائی کے لیے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر اسرائیلی پولیس اور فوج نےمظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر لاٹھی چارج کیا اشک آور گیس کے گولے فائر کیے جس کے نتیجے کم سے کم تین افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق عوفر جیل کے باہر پیر کے روز احتجاج کرنےوالوں میں جامعہ بیرزیت کے سیکڑوں طلباء بھی شامل تھے۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینر اٹھا رکھےتھے جن پر شیخ عدنان کی رہائی اور انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا ۔
اس دوران اسرائیلی فوج نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پرلاٹھی چارج کیا۔ جس کے نتیجےمیں تین طلباء شدید زخمی ہو گئے۔ زخمی طلباء کو مقامی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ قابض فوج اور مظاہرین کے درمیان کئی گھنٹے تک آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری رہا۔ مظاہرین نے اسرائیلی فوج کے خلاف شدید نعرے بازی کےعلاوہ ان پر پتھراؤ بھی کیا۔
ادھر مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف شہروں جنین، رام اللہ، الخلیل اور نابلس میں بھی شیخ عدنان کی بلا جواز حراست اور ان کی رہائی کے مطالبات مسترد کیے جانے کی شدید مذمت کی گئی۔ جنین میں سیکڑوں افراد نے پلے کارڈ اٹھا کر اسرائیل کے خلاف نعرے بازی کی اور شیخ عدنان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
واضح رہے کہ شیخ عدنان گذشتہ دو ماہ سے اسرائیلی فوج کے ظالمانہ رویے کےخلاف بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حکام نے شیخ عدنان کی رہائی کے لیے کیے جانے والے مطالبات اور اسیر کی خراب صحت کے باوجود انہیں رہا کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
شیخ عدنان کو کئی سال قبل اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے سے حراست میں لیا تھا۔ ان پر فلسطینی مزاحمتی تنظیم اسلامی جہاد سے تعلق اور اسرائیلی فوجیوں پر حملوں کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

