اردن کے صدر مقام عمان میں قائم اسرائیلی سفارت خانے کے باہر سیکڑوں افراد نے فلسطینی بھوک ہڑتالی اسیران کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے دھرنا دیا۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق احتجاجی مظاہرے کا اہتمام فلسطینی تنظیموں، انسانی حقوق کے گروپوں اور اردن کی سول سوسائٹی کی جانب سے کیا گیا تھا۔ اس موقع پر دھرنے میں شامل نوجوانوں کی بڑی تعداد نے اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر فلسطینی اسیران سے ہمدردی اور صہیونی ریاستی دہشت گردی کے خلاف سخت الفاظ میں نعرے درج تھے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مقررین نے اسرائیلی جیلوں میں انتظامی حراست میں رکھے گئے تمام فلسطینیوں کو رہا کرنے اور ان کی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ مقررین نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ فلسطینی بھوک ہڑتالی اسیران کی مدد کریں اور انہیں صہیونی ریاست کے جبر وتشدد سے بچائیں۔
احتجاجی کیمپ سے سابق فلسطینی اسیرہ اور فلسطینی اسیر رہ نما ابراہیم کی اہلیہ اسماء حامد نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اردن سمیت کئی دوسرے ممالک میں بھی فلسطینی قیدیوں کے حقوق کی آواز کو بلند کرنے کے لیے اس طرح کے احتجاجی مظاہرے کریں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی فوج نے مجموعی طور پر پانچ ہزار فلسطینیوں کو جیلوں میں ڈال رکھا ہے جن میں سے 200 قیدی انتظامی حراست کے تحت جیلوں میں بند ہیں۔ ان پر نہ تو کوئی الزام ہے اور نہ ہی انہیں رہا کیا جا رہا ہے۔ ان انتظامی محروسین نے انیس روز قبل اجتماعی بھوک ہڑتال شروع کر رکھی ہے۔ اسیران کی بھوک ہڑتال میں ان کے ساتھ اندرون اور بیرون ملک مکمل یکجہتی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
