اُردن کے فلسطین کی سرحد سے ملحقہ سرحدی علاقے کے ایک شہری نے اسرائیلی فوج کے خلاف مقامی عدالت میں ھرجانے کا دعویٰ کیا ہے۔ سرحدی گاؤں الشونہ کے رہائشی محمد موسیٰ
العدوان کا کہنا ہے گذشتہ ہفتے اسرائیلی فوج نے گاؤں کے قریب بارودی سرنگوں کو تباہ کرتے ہوئے اس کے مکان کو بھی نقصان پہنچایا گھا۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق موسیٰ العدوان نے شونہ کی ایک مقامی عدالت میں دائرمقدمہ میں موقف اختیار کیا ہے کہ صہیونی فوج نے گذشتہ ہفتے شوانہ میں اس کے ایک سو مربع میٹرپر مشتمل مکان کے قریب زور دار دھماکے کیے۔ ان دھماکوں کے نتیجے میں اس کے مکان کی دیواریں زمین بوس ہو گئیں اور مکان ایک پنجرہ بن گیا ہے، جو اب محض ایک ڈھانچہ ہے اور کسی بھی وقت گر سکتا ہے۔
دوسری جانب شونہ کےمقامی اردنی باشندوں کا کہنا ہے کہ صہیونی فوج نے گذشتہ ہفتے سرحد پر باردوی سرنگیں تباہ کرتے ہوئے زور دار دھماکے کیے تھے جن کے باعث ان کے مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ دھماکے اتنے زور دار تھے کہ شونہ قصبے میں زلزلے کی کیفیت دیکھی گئی تھی۔
یاد رہے کہ کچھ عرصہ پیشتر امریکا میں سرگرم انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے انکشاف کیا تھا کہ اسرائیل نے فلسطین کی عرب ممالک کی سرحدوں کے ساتھ لاکھوں کی تعداد میں بارودی سرنگیں بچھا رکھی ہیں جو سرحدی علاقوں کے شہریوں کے لیے کسی بڑے خطرے سے خالی نہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

