مسلم امہ غزہ پر غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کے دہشت گردانہ حملوں کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے خلاف سخت کاروائی کرے۔اسرائیل کا وجود انسانیت کے لئے زہر قاتل اور دنیا کے امن کے لئے خطرہ ہے،نابودی نا گزیر ہے۔ان خیالات کا اظہار فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے مرکزی سرپرست رہنماؤں اور جماعت اسلامی کراچی کے امیر محمد حسین محنتی،جمعیت علماء پاکستان سندھ کے جنرل سیکرٹری علامہ عقیل انجم قادری،مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولاناامین شہیدی،پاکستان عوامی مسلم لیگ کے رہنما محفوظ یار خان ایڈدوکیٹ ، فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے مرکزی ترجمان صابر کربلائی،جمعیت علماء پاکستان کے صوبائی رہنماؤں فیض رسول ،شیخ عمران الحق،مرکزی جماعت اہل سنت کے رہنما مولانا غلام یاسین گولڑوی ،صاحبزادہ عبد الجبار چشتی اور ڈاکٹر فوزیہ صدیقی سمیت سول سوسائٹی اور وکلاء رہنماؤں ناصر رضوان ایڈووکیٹ،آصف بیگ ایڈووکیٹ اوردیگرنے کراچی پریس کلب کے سامنے غزہ پر غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کے دہشت گردانہ حملوں میں معصوم انسانوں کے قتل عام کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کیا۔احتجاجی مظاہرے میں سیکڑوں افراد نے شرکت کی جبکہ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے اور سروں پر سرخ پٹیاں باند ھ رکھی تھیں،جن پر غزہ کے مظلوم عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی اور عالمی دہشت گرد امریکہ اور اس کی ناجائز اولاد اسرائیل کے خلاف نعرے درج تھے۔شرکائے احتجاجی مظاہرہ نے عالمی برادری ،مسلم امہ اور عرب ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ میدان عمل میں آئیں اور فلسطین اور غزہ پر صیہونی جارحیت کے خلاف سخت کاروائی کریں۔شرکائے احتجاجی مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ اب وقت آ چکا ہے کہ مسلم امہ انسانیت کے دشمنوں امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹیں۔انہوں نے حماس،فلسطینی عوام او ر ان تمام مجاہدین کو جو غاصب صیہونی دہشت گرد اسرائیل کے حملوں کے سامنے سینہ سپر ہیں حماس کے کمانڈر احمد الجعبری اور تمام شہداء کی شہادت پر ہدیہ تعزیت پیش کیا اور کہا کہ پاکستان کے عوام فلسطینیوں کے ساتھ ہیں اور فلسطینی عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔واضح رہے کہ فلسطین کا علاقہ غزہ سنہ 2007ء سے غاصب اسرائیل کے دہشت گردانہ حملوں کا نشانہ بن رہا ہے اور اب تک سیکڑوں فلسطینی شہید و زخمی ہو چکے ہیں جن مین بڑی تعداد معصوم کمسن بچوں اور خواتین کی ہے۔جبکہپ گذشتہ چند دنوں میں غزہ میں صیہونی حملوں میں چالیس سے زائد شہید اور چار سو سے زائد زخمی ہو چکے ہیں جن میں بڑی تعداد معصوم بچوں اور خواتین کی ہے۔