رپورٹ کے مطابق اسرائیل کو یورپی حلیفوں سے سخت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے کیونکہ یورپ ملکوں نے اسرائیل کے حوالے سے کچھ پالیسیاں تبدیل کرنا شروع کی ہیں جو صہیونی ریاست کو سخت ناگوار ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عالمی توانائی ایجنسی نے پچھلے سال ستمبر میں اسرائیل سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنے غیراعلانیہ جوہری پروگرام کے معائنے کے لیے جوہری تنصیبات تک عالمی معائنہ کاروں کو رسائی فراہم کرے، مگر افریقا کے اسرائیل نواز بعض ممالک کی مداخلت کی وجہ سے عالمی توانائی ایجنسی کا یہ مطالبہ اقوام متحدہ کی جانب سے منظور نہیں ہوسکا جب کہ یورپی ملکوں نے آئی اےای اے کے فیصلے کی حمایت کی تھی۔ اسرائیل کو دکھ اس بات کا ہےکہ یورپی ملکوں کی جانب سے اسرائیل کے متنازع جوہری پروگرام کے معائنے کا مطالبہ کیوں کیاگیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق کچھ عرصے سے یورپ میں اسرائیلی مصنوعات کو متنازع قرار دینے کی کامیاب مہم بھی یورپ اور صہیونی ریاست کے درمیان فاصلے بڑھانے کا موجب بنی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل اب یورپ کے بجائے ساحل اور صحرائے افریقا کے ممالک کی طرف متوجہ ہوا ہے۔ یورپی ممالک سے تعلقات کا جمود توڑنے کے لیے افریقا کے ملکوں کو لبھانے کی صہیونی کوششیں تیز ہوگئی ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو آئندہ جولائی میں چار افریقی ملکوں کا دورہ کریں گے۔ ان کا یہ دورہ دو عشروں بعد اسرائیل کے کسی وزیراعظم کا پہلا دورہ ہوگا۔
