(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے کہا ہے کہ غزہ میں موت اور تباہی کی سطح کی حالیہ تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے گوتیریس نے کہا کہ “غزہ میں شہری ایک بار پھر ایک اور مہلک کشیدگی کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ قابض اسرائیل کی جانب سے غزہ شہر پر مکمل فوجی کنٹرول حاصل کرنے کے ابتدائی اقدامات ایک نئے اور خطرناک مرحلے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ میں موت اور تباہی کی سطح کی حالیہ تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔
گوتیریس نے کہا کہ جنگ میں شہریوں کے خلاف بھوک کا بطور ہتھیار استعمال نہیں کیا جانا چاہیے اور شہریوں کے تحفظ اور انسانی امداد کی رسائی کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مزید بہانوں، رکاوٹوں اور جھوٹ کے لیے کوئی جگہ نہیں۔
انہوں نے غزہ کے جنوب میں خان یونس میں ناصر ہسپتال پر اسرائیلی بمباری کا بھی ذکر کیا، جس کے نتیجے میں پانچ صحافیوں سمیت اکیس فلسطینی شہید ہوئے تھے۔ مزید کہا کہ ایک کے بعد دوسرا حملہ معصوم و نہتے شہریوں کو شہید کررہاہے، جن میں طبی کارکنان اور صحافی بھی شامل ہیں جو اپنا بنیادی کام کر رہے ہیں اور یہ سب کچھ دنیا کی نظروں کے سامنے ہو رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے مزید کہا کہ یہ حملے مظالم کی ایک نہ ختم ہونے والی فہرست کا حصہ ہیں۔ انہوں نے فلسطینیوں کی نسل کشی اور مظالم ڈھانے والوں کو کٹہرے میں لانے پر زور دیا۔