رپورٹ کے مطابق اسرائیلی پارلیمنٹ کی دفاعی کمیٹی کے اجلاس کے دوران بریفنگ دیتے ہوئے فوجی حکام کا کہنا تھا کہ فلسطینی نوجوانوں کی جانب سے یہودی فوجیوں پر ہونے والے حملوں کے فوج پر گہرے منفی اثرات مرتب ہونے لگے ہیں۔ پچھلے چند ماہ میں ہزاروں اسرائیلی فوجیوں کو نفسیاتی معائنے کے لیے اسپتالوں میں لایا گیا اور بڑی تعداد میں نفسیاتی عوارض کا شکار ہونے والے فوجیوں کا علاج معالجہ کیا گیا۔
پارلیمنٹ کو بریفنگ دیتے ہوئے مزید کہا گیا ہے کہ حال ہی میں اسرائیلی فوج کے دو ہوابازوں کو بھی نفسیاتی معائنے کے بعد انہیں نفسیاتی مریض قرار دیا گیا ہے جس کے بعد ان کاعلاج جاری ہے۔ فوج نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ڈیوٹی کے اوقات کے علاوہ فوجیوں کے پاس اسلحہ ہونا ان کے لیے جان لیوا بھی ہوسکتا ہے کیونکہ بہت سے فوجی اپنے ہی اسلحہ سے خود کشی کرسکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق فوج کونفسیاتی امداد مہیا کرنے والے کرنل کیرن گینات کا کہنا ہے کہ پچھلے کچھ عرصے سے ہم نے تین گنا زیادہ فوجیوں کا نفسیاتی علاج کیا ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ فوج میں نفسیاتی عوارض تین گنا بڑھ چکے ہیں۔
