(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) مصرکی جانب سے فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی کی واحد بین الاقوامی رابطے کی گذرگاہ رفح کی بندش کے نتیجے میں دو سال سے غزہ کی پٹی کے شہری عمرہ کی ادائیگی سے محروم ہیں۔
رپورٹ کے مطابق غزہ میں حج وعمرہ سروسز فراہم کرنے والی ٹورآپریٹرز کے چیئرمین عوض ابو مذکور نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ سنہ 2014 ء کو مصری حکام نے غزہ کی پٹی سے متصل گذرگاہ بند کردی تھی جس کے بعد اب تک غزہ کی پٹی کے شہری عمرہ کی ادائی کے لیے حجاز مقدس نہیں جاسکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رفح گذرگاہ کی بندش حج و عمرہ پرپابندی کے مترادف ہے۔ایک سوال کے جواب میں ابو مذکور کا کہنا تھا کہ انہوں نے وزارت اوقاف اور حج وعمرہ سےرابطہ کیا تو وزارت حج کے ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ حکومت دو ہفتوں میں غزہ کے 1100 عازمین عمرہ کو بیرون ملک روانہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ گیارہ سو افراد نے اپنی رجسٹرڈ بھی کرادی ہے مگر رفح گذرگاہ کی بندش کے باعث ہم بے بس ہیں۔
ابو مذکور کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور مصر کی جانب سے غزہ کی پٹی کے عوام کے بیرون ملک سفر عائد پابندیوں کے باعث فوری طورپر عمرہ سروسز کی بحالی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمرہ سروسز کے معطل ہونے کے نتیجے میں سیکڑوں افراد بےروزگار ہوچکے ہیں۔
خیال رہے کہ فلسطین کے علاقہ غزہ کی پٹی کو دنیا سے براہ راست زمینی راستے سے ملانے والی واحد گذرگاہ رفح ہے جو مصر سے ملتی ہے۔ مگر سنہ 2013 ء میں مصر میں منتخب صدر محمد مرسی کا تختہ الٹے جانے اور قاہرہ میں فوجی حکومت کے قیام کے بعد غزہ کے عوام کو بھی انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
