رپورٹ کے مطابق سابق فوجی عہدیدار جنرل عامی ایالون نے لندن یونیورسٹی میں اہم خطاب کرنا تھا مگر جب انہوں نے یونیورسٹی کے کانفرنس ہال میں تقریر کے لیے جانے کی کوشش کی تو ہال کے ہاہر جمع درجنوں افراد نے ایالون کے خلاف شدید نعرے بازی شروع کردی۔ مظاہرین نے عامی ایالون سمیت فلسطینیوں کے خلاف جنگی جرائم میں ملوث تمام صہیونی لیڈروں کے خلاف فوج داری عدالتوں میں مقدمات چلانے کا مطالبہ کیا جس کے بعد کانفرنس ہال سے بھی شور اٹھا اور عامی ایالون کو خطاب کے بغیر ہی وہاں سے واپس جانا پڑا۔
خیال رہے کہ عامی ایالون کا یہ جملہ مشہور کہ ’’میں نے جتنے فلسطینی قتل کیے حماس نے اس کا عشر عشیر یہودی بھی ہلاک نہیں کیے ہیں‘‘۔
ادھر ایک دوسری پیش رفت میں برطانیہ کی ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے بین الاقوامی ڈاکٹر ایسوسی ایشن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی ایسوسی ایشن کو تنظیم سے نکال باہر کریں۔
