(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) رپورٹ کے مطابق اسرائیلی اخبارات نے انکشاف کیا ہے کہ مصرکے موجودہ فوجی صدر فیلڈ مارش عبدالفتاح السیسی اسرائیل کے ایجنٹ بن گئے ہیں۔ فلسطینیوں کے حوالے سے اسرائیلی حکومت کے کام بھی صدر السیسی نے اپنے ہاتھ میں لے لیے ہیں۔
رپورٹ میں کہا ہے کہ مصر میں فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی کے صدر منتخب ہونے کے بعد تل ابیب کو غزہ کی پٹی کے مزحمت کاروں کو اسلحہ کی اسمگلنگ کی روک تھام میں زیادہ کوششیں نہیں کرنا پڑی ہیں کیونکہ صدرالسیسی کے آنے کے بعد غزہ کی پٹی کو اسلحہ کی ترسیل کی روک تھام کا کام قاہرہ نے اپنے ذمے لے رکھا ہے۔اخبار لکھتا ہے کہ مصری فوج کی جانب سے غزہ کی پٹی کو اسلحہ کی ترسیل روکنے کےلیے جو مہم جاری ہے وہ اسرائیل کی مہم ہے کیونکہ اس مہم کے نتیجے میں اسرائیلی فوج کو غزہ کے محاذ کے حوالے سے کافی ریلیف ملا ہے۔ اسرائیلی فوج کے بجائے اب مصری فوج غزہ کی پٹی کو بحر ہند اور بحر الاحمر کے راستے اسلحہ کی سپلائی کی روک تھام کررہی ہے۔ یوں اسرائیلی فوج کے حصے کا کام بھی صدر عبدالفتاح السیسی نے اپنے ذمے لے لیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سابق مصری صدور حسنی مبارک اور محمد مرسی کے ادوار میں سوڈان اور دوسرے ممالک سے غزہ کی پٹی کو اسلحہ پہنچانے والے کئی قافلوں پر مصری فوج نے حملے کرکے انہیں تباہ کیا۔ مگر صدر السیسی کے آنے کے بعد اسرائیلی فوج کو اب غزہ کی پٹی کی طرف اسلحہ لے کرآنے والے کسی قافلے کو نشانہ بنانے کی ضرورت نہیں رہی ہے۔ مصری فوج نہ صرف سرحد پربنی سرنگوں کو مسمار کرکے غزہ اور مصر کے درمیان جاری اسلحہ کی اسمگلنگ کی روک تھام کررہی ہے بلکہ سمندری راستوں سے بھی غزہ کی ناکہ بندی سخت کردی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق موساد کے موجودہ چیف یوسی کوھین کے ایک بیان کا بھی حوالہ دیا ہے جس میں انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ اسرائیل اور مصر کے انٹیلی جنس اداروں میں دو طرفہ تعاون تاریخ کی بلند ترین سطح پر جاری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مصر اور اسرائیل کے سراغ رساں اداروں کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط اور مستحکم بنانا ان کی اولین ترجیح ہے۔
حال ہی میں اسرائیلی ریڈیو نے بھی اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ مصری حکام نے اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ غزہ کی ناکہ بندی میں کسی صورت میں نرمی نہیں کریں گے۔ بالخصوص غزہ کی پٹی میں اگرترکی کوئی کردار ادا کرتا ہے قاہرہ غزہ کے محاصرے میں کسی صورت میں نرمی نہیں برتے گا۔
