اردن کی وزارت خارجہ نے مسجد اقصیٰ کی یہودی آباد کاروں کے ہاتھوں روز مرہ کی بنیاد پرہونے والی بے حرمتی اورفلسطینی نمازیوں پر اسرائیلی فورسز کے وحشیانہ تشدد کے رد عمل میں اردن نے صہیونی ریاست سے سخت احتجاج کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اردنی وزارت خارجہ کی جانب سے عمان میں قائم اسرائیلی سفارت خانے کو ایک احتجاجی یاداشت ارسال کی گئی ہے جس میں مسجد اقصیٰ پر یہودی آباد کاروں کے دھاووں اور اسرائیلی پولیس اور فوج کے ہاتھوں نمازیوں پر وحشیانہ تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔احتجاجی مراسلے میں اردنی حکومت نے اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قبلہ اول کی بےحرمتی کے واقعات کی روک تھام اور یہودی فوجیوں کے ہاتھوں فلسطینی نمازیوں پر تشدد کا سلسلہ بند کرائے۔
احتجاجی مراسلے میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں[اردن۔ اسرائیل] کے درمیان طے پائے معاہدوں کے تحت مسجد اقصیٰ کی سرپرستی اور اس کی نگرانی کی ذمہ داری اردنی محکمہ اوقاف کی ہے۔ اسرائیلی فوج ، پولیس اور یہودی آباد کاروں کا قبلہ اول میں داخل ہونا ان معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی اور عالمی قونین کی توہین ہے۔
اردنی حکومت کی جانب سے اسرائیلی سفارت خانے کو ارسال کردہ یاداشت میں کہا گیا ہے کہ عمان حکومت بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ میں موجودہ کشیدگی کو تشویش کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور پوری صورت حال پرمسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ اسرائیلی فوجیوں اوریہودی آباد کاروں کی امن دشمن کارروائیوں پر اردنی حکومت خاموش نہیں رہے گی۔
یاداشت میں مسجد اقصیٰ میں نمازیوں پر تشدد کی مذمت کے ساتھ ساتھ فلسطینیوں کی بلا جواز گرفتاریوں اور قبلہ اول سے بے دخلی کے واقعات کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے بے دخلی کی پالیسی ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یاداشت میں کہا گیا ہے کہ یہودی شرپسندوں کی روز مرہ کی بنیاد پر جاری کارروائیاں مذہبی چھیڑنے کا سبب بن رہی ہیں۔
