(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) مسجد اقصیٰ کے دفاع کے لیے اردن میں قائم عوامی کونسل کی جانب سے اردنی حکومت کے اس اقدام کو غیرقانونی قرار دیا گیا ہے جس کے تحت عمان نے فلسطین میں مسجد اقصیٰ میں خفیہ کیمرے نصب کرائے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اردنی عوامی کونسل برائے دفاع قبلہ اوّل کے چیئرمین عبداللہ خالد عبیدات نےاپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ مسجد اقصیٰ خالصتا مسلمانوں کا مقدس مقام ہے، جس پر مسلمانوں کے سوا کسی دوسرے مذہب کے پیروکاروں کے داخلے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اردنی حکومت نے قبلہ اول میں کیمروں کی تنصیب کی حمایت کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ جیسے یہودیوں کو بھی وہاں پرعبادت کا حق حاصل ہے۔خیال رہے کہ فلسطینی محکمہ اوقاف نے چند ہفتے قبل مسجد اقصیٰ میں 55 خفیہ کیمرے نصب کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ خفیہ کیمرے مسجد کے صحن، احاطوں اوردیگر اہم مقامات پر نصب کیے گئے ہیں۔
اردنی حکومت کا کہنا ہے کہ خفیہ کیمروں کی تنصیب سے مسجد اقصیٰ میں یہودی آباد کاروں کی نقل وحرکت پر نظر رکھنے میں آسانی ہوگی اور اس طرح یہودی آباد کار مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے سے گریز کریں گے۔
دفاع اقصیٰ کے لیے قائم کردہ پیپلز کونسل کے سربراہ کا کہنا ہے کہ خفیہ کیمرے نصب کرنے کے باوجود یہودی آباد کاروں کا قبلہ اوّل میں اشتعال انگیز دھاووں کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین اور اردن کے عوام مسجد اقصیٰ میں خفیہ کیمروں کی تنصیب کی پالیسی کے خلاف ہیں کیونکہ کیمرے نصب کرنے سے مسجد اقصیٰ محفوظ نہیں ہوئی بلکہ اس طرح یہودیوں کو بھی قبلہ اوّل میں داخل ہونے کا حق دے دیا گیا ہے۔
عبداللہ خالد عبیدات کا کہنا تھا کہ خفیہ کیمروں کا کنٹرول اسرائیلی انتظامیہ کے پاس ہے جس کے باعث یہودی آباد کاروں کا قبلہ اوّل میں داخلہ کوئی مشکل نہیں ہے۔ انہوں نے اردنی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مسجد اقصیٰ کی نگرانی کے لیے خفیہ کیمروں کی تنصیب کو ذریعہ نہ بنائے کیونکہ اس طرح مقدس مقام کا تحفظ ممکن نہیں ہے۔
