(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر برائے مشرقی وسطیٰ و اسرائیل جیسن گرین بیلٹ نے کہا ہے کہ امریکی صدر کے مشیر اور داماد جیرڈ کونشر کی جانب سے پیش کردہ منصوبہ ڈیل آف دی سینچری فلسطینی اور اسرائیلی فریقین کی شمولیت کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا
ایک ٹی وی انٹرویوں میں انکا کہنا تھا کہ جیرڈ کوشنر اور امریکی حکومت کے ماہرین کی جانب سے فلسطین ،اردن ، مصراور لبنان کے لوگوں کےلئے 50بلین ڈالر کا یہ منصوبہ شاندار ہے اور یہ فلسطینیوں کی ترقی اور استحکام کیلئے عمدہ تجویز ہے تاہم یہ اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک اسرائیلی حکام کے ساتھ ساتھ فلسطینی بھی اس کو قبول کریں اور اس میں شامل ہونے پر آمادہ ہوں۔
ایک سوال کے جواب میں انکا کہنا تھا کہ میں سمجھتاہوں کہ بحرین کانفرنس کے حوالے سے یہ کہنا کہ یہ فلسطینیوں کو رشوت کے عوض ان کے حق سے دستبردار کرنا ہے تو یہ حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے
انھوں نے اس بات کورد کرتے ہوئے کہا کہ ایسا تادیا جارہا ہے کہ امریکا اس تنازع میں ثالث کا کردار ادا کررہاہے حالانکہ امریکا خطے میں امن کی کوششوں میں مصروف ہے
انھوں نے فلسطین اتھارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین اتھارٹی مذاکرات میں شامل نہیں ہورہی ہے جس کے لئے میں آگاہ کرنا چاہتا ہوں کہ ان کا یہ رویہ امن کےلئے فائدہ مند ہرگز بھی نہیں ہے۔
