اسرائیل سے شائع ہونے والے مؤقرعبرانی اخبار ‘معاریف’ نے اپنی حالیہ اشاعت میں انکشاف کیا ہے کہ غزہ پر مسلط کردہ اسرائیلی جنگ میں مزاحمت کاروں کے میزائلوں کی تل الربیع تک رسائی کے بعد علاقے میں فلیٹوں کی قیمت تیزی سے گر رہی ہے۔ فلیٹوں کی مانگ میں کمی کی وجہ سے لوگ انہیں اونے پونے داموں فروخت کر رہے ہیں تاکہ کسی دوسری محفوظ جگہ آباد ہو سکیں۔
اخبار کے مطابق اہالیاں تل الربیع ‘ریشون لتسیون’ پر میزائل گرنے کے بعد سے انتہائی صدمے کی حالت میں ہیں۔ اس حملے میں علاقے کی چند عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا جس کے بعد مقبوضہ جنوبی فلسطینی علاقوں کی طرح رہائش کے لئے ناپسندیدہ قرار دیا جانے لگا ہے۔شہر میں فلیٹس کی خرید وفروخت کا کام کرنے والے ایک بروکر کے حوالے سے اخبار نے بتایا کہ جب سے مزاحمت کاروں کے میزائلوں کی مار تل ابیب تک سرکاری طور پر کنفرم کی گئی ہے اس وقت سے غیر محفوظ فلیٹس کی مانگ میں کمی آئی ہے جس کے باعث ان کی قیمتیں تیزی سے گر رہی ہیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین