رپورٹ کے مطابق سوئس سفیر غرب اردن اور غزہ کے درمیان دو طرفہ آمدو رفت کے لیے استعمال ہونے والی ’’بیت حانون‘‘ گذرگاہ سے غزہ میں داخل ہوئے۔
فلسطینی حکام کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں بتایا گیا ہے کہ سوئس سفیر نے غزہ کی پٹی میں سابقہ حکومت کے عہدیداروں سے بھی بات چیت کی ہے۔ اس موقع پر فلسطینی حکام اور سوئس سفیر کے درمیان غزہ کی پٹی میں ماضی میں اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ کی حکومت کے دور میں بھرتی ہونے والے سرکاری ملازمین اور ان کی تںخواہوں کے تنازع پربات چیت کی گئی۔
فلسطینی ذرایع کا کہنا ہے کہ سوئس سفیر غزہ کی پٹی میں سابقہ حکومت کے دور میں بھرتے ہونے والے ملازمین کی تںخواہوں کے معاملے کو حل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے فلسطینی اتھارٹی کو بھی اس معاملے کے حل کے لیے اپنی خدمات پیش کرنے کی تجویز دی ہے۔
خیال رہے کہ ایک سال قبل اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے سوئٹرزلینڈ کے سفیر کے دورہ غزہ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ سوئس حکومت بیت حانون گذرگاہ کے راستے غزہ کی پٹی میں حکمراں حماس کی حکومت کو فنڈز فراہم کررہی ہے۔
