(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطین کے سیکیورٹی ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کے خفیہ ادارے غزہ کی پٹی میں مزاحمت کاروں کے بارے میں اہم معلومات کےحصول کے لیے نئے حربے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق غزہ کی پٹی میں ایک سیکیورٹی ذریعے نے انکشاف کیاہے کہ صہیونی خفیہ ادارے فرضی ’این جی اوز‘ کے نام پر غزہ کے شہریوں کو چھ ماہ کے لیے روز دینے کے ایک حربے پرعمل پیرا ہیں جس کا مقصد فلسطینیوں کو اسرائیل کے جاسوسی کے لیے بھرتی کرنا اور انہیں مخبری کے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنا ہے۔رپورٹ میں بتایا ہے کہ پچھلے کچھ عرصے سے اسرائیلی خفیہ اداروں کی جانب سے غزہ کی پٹی کے شہریوں سے رابطوں کی کوششیں کی گئی ہیں۔ اسرائیلی خفیہ ادارے بہ ظاہر خود کو مغربی کنارے میں سرگرم این جی اوز کے نمائندے ظاہر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کا تعلق کسی این جی او کے ساتھ ہے جوفلسطین میں بے روزگار نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی میں سرگرم عمل ہے۔ صہیونیوں کے بہ قول ان کی تنظیم غزہ کی پٹی کے بے روزگار نوجوانوں کو چھ ماہ کے لیے روزگارفراہم کرتی ہے۔ اس طرح بے روزگار نوجوانوں کو اپنے چنگل میں پھنسانے کا مکروہ حربہ استعمال کیا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق صہیونی خفیہ اداروں کی جانب سے فلسطینیوں کو کہا جاتا ہے کہ اگر وہ بے روزگار ہیں تواپنی معلومات فراہم کریں تاکہ انہیں چھ ماہ کے لیے بے روزگاری الاؤنس جاری کیا جاسکے۔
جب فلسطینی ان رابطہ کندگان سے ان کا اتا پتا پوچھتے ہیں تو جواب میں انہیں کہا جاتا ہے کہ وہ مغربی کنارے میں ہیں۔ غزہ کی پٹی میں ان کا کوئی دفتر نہیں۔ رابطہ کرنے والے صہیونی خفیہ اداروں کے اہلکار اپنی شناخت مکمل طورپر چھپائے رکھتے ہیں۔
خیال رہے کہ اسرائیلی خفیہ اداروں کی جانب سے فلسطین میں جاسوس بھرتی کرنے کے نئے حربے ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حال ہی میں غزہ کی پٹی میں حکام نے دشمن کو معلومات فراہم کرنے اور ان کے لیےجاسوسی کے الزام میں چار افراد کو پھانسی دینے کا حکم دیا ہے۔
