(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطین کے امن کارکن ’’جمال جوما‘‘نے ایک انٹریو میں فلسطین میں جاری اسرائیلی جارحیت پر بین الاقوامی برادری کی خاموشی کو انتہائی شرمناک قرار دیتے ہوئے کہاکہ عالمی برادری کو اسرائیلی جرائم کی مذمت کرنی چاہئے ۔
انہوں نے کہاکہ اسرائیلی غاصب صہیونی فوجی اہلکار روزانہ مظلوم فلسطینیوں پر ظلم کے پہاڑ توڑکر انہیں بےدردی کےساتھ شہید کررہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ فلسطینی عوام روز خوفناک اور وحشیت ناک جارحیت کا سامنا کررہے ہیں کیونکہ اسرائیلی رژیم تین ماہ سے یروشلم ،حیرون ،الخلیل ،نابلوس اوردیگر علاقوں میں فلسطینی نوجوانوں کو شہید کررہے ہیں ۔
انہوں نے کہاکہ فلسطینی عوام زوروشور سے اپنے مسئلے کو عالمی برادری تک پہنچانے کی جی توڑ کوشش کررہی ہے لیکن عالمی برادری نے ان کے تئیں آنکھیں موند رکھی ہیں جوکہ قابل مذمت اورافسوسناک ہے ۔
انہوں نے اسرائیل کو ایک نسل پرست ریاست قراردیتے ہوئے کہاکہ اس ملک کے حکمرانوں نے اپنے فوجیوں کو فلسطینیوں کو شہید کرنے کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے جوکہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اورایک جنگی جرم ہے جسکی ذمہ دار اسرائیلی حکومت اور خاصکر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ہیں ۔
موصوف امن کارکن نےکہاکہ اسرائیلی حکومت اورنیتن یاہو ایسے خونخوار بھیڑئے ہیں جنہیں مظلوم فلسطینیوں پر ظلم ڈھانےکیلئے امریکہ ،یورپی یونین اوراقوام متحدہ کے نام نہاد ادارے کی پشت پناہی حاصل ہے ۔
انہوں نےکہاکہ بین الاقوامی برادری کو اسرائیل کے خلاف بائیکاٹ کرکے اسے الگ تھلگ کردینا چاہئے تاکہ اسرائیل کو ان جرائم سے جنکا ارتکاب وہ روزانہ فلسطین میں کررہاہے سے بازرکھا جاسکے۔
جمال جوما نےمزید کہا کہ جب تک اسرائیل کو بین الاقوامی برادری اورخاص طورسے امریکہ ویورپی یونین کی حمایت حاصل ہے تب تک وہ فلسطین میں انسانیت سوزجرائم کا ارتکاب کرتارہے گا لہذا بین الاقوامی برادری کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ غفلت کی نیند سے بیدار ہوکر اسرائیل اوراسکے پشت پناہوں کے خلاف فوری طوراقدام کرے ۔
