رپورٹ کے مطابق فلسطینیوں کی نسل کشی کی تازہ مہم ایک سابق فوجی افسرنے شروع کی ہے، جس میں اس نے ایک فلسطینی کے قتل کے بدلے میں قاتل کو سیاحتی مقام پر ایک بیش قیمت فلیٹ مفت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
فلسطینیوں کے قتل پراکسانے اور ان کی نسل کشی کی مہم چلاتے ہوئے قاتلوں کو انعام واکرام سے نوازنے والے موصوف ’’حائی الیاھو‘‘ ہیں جو اسرائیلی فوج کے ایک سابق سینیر افسر ہیں۔ موصوف نے حال ہی میں ایک مہم شروع کی ہے اور کہا ہے کہ ایک فلسطینی کو قتل کرنے والے فوجی کو اس کے بدلے میں شمالی فلسطین کے سیاحتی مقامات پر بنائے گئے فلیٹس میں ایک سیاحتی فلیٹ’’شالیہ‘‘ بہ طور انعام دیا جائے گا۔
اسرائیل کے عبرانی ٹی وی نے بھی موصوف کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں اس نے گذشتہ ہفتے ایک فلسطینی نوجوان عبدالفتاح الشریف کو بلا وجہ گولیاں مار کر شہید کرنے کے مرتکب فوجی کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ سابق اسرائیلی فوجی افسر کا کہنا ہے کہ فلسطینی لڑکے کو قتل کرنے والے فوجی نے کوئی جرم نہیں کیا ہے۔ اس نے جو کچھ کیا ہے اس پروہ انعام کا حق دار ہے۔
’’حائی الیاھو‘‘ کا کہنا ہے کہ جو فوجی بھی کسی فلسطینی کو قتل کرے گا میں اسے شمالی فلسطین میں بنائی سیرگاہ میں بنے سیاحتی فلیٹس میں سے ایک فلیٹ اسے مفت دوں گا۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی اسرائیلی کی جانب سے فلسطینیوں کے قتل پریہودیوں کو اکسایا گیا ہے، اسرائیل کی سیاہ تاریخ ایسے ان گنت خونی دشمنوں سے بھری پڑی ہے۔ اس باب میں یہودی ربی بھی پیش پیش رہے ہیں جو یہودیوں کو فلسطینیوں کے قتل پراکسانے کے لیے ایسے فتوے جاری کرتے رہے ہیں۔ لگتا ہے موصوف بھی یہودی انتہا پسند ربیوں کے فتوؤں سے متاثر ہیں۔
