(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے فلسطین کی مساجد میں اذانوں پر پابندی کی راہ ہموارکرنے کے لیے اذانوں اور مساجد کے خلاف زہراگلنا شروع کردیاہے۔ انہوں نے اللہ کے گھروں سے بلند ہونے والی ’’اللہ اکبر‘‘ کی صداؤں کو شور وغوغاء اور آرام وسکون میں خلل کا باعث قرار دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بنجمن نیتن یاھو نے حکمراں جماعت’’لیکوڈ‘‘ کے پارلیمانی بلاک کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی علاقوں میں چپے چپے پر موجود مساجد اور وہاں سے بلند ہونے والی اذانیں یہودی شہریوں کے آرام وسکون میں خلل کا باعث بن رہی ہیں۔نیتن یاھو کا کہنا ہے کہ فلسطینی عرب آبادی والے علاقے ریاستی قانون پرعمل درآمد نہیں کرتے۔ وہ دھڑا دھڑ مسجدیں بنانے کے ساتھ ساتھ لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعے اذان دینے پر مصر ہیں جس کے نتیجے میں یہودی شہریوں کے آرام و سکون میں خلل پیدا ہو رہا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نے فلسطینیوں کی خانگی اور عایلی روایات کو بھی ہدف تنقید بنایا اور کہا کہ فلسطینی آبادیوں میں شادیوں سے متعلق قوانین کی بھی کوئی ریاعت نہیں رکھی جاتی۔
مساجد کے خلاف زہر افشانی کرتے ہوئے نیتن یاھو کا کہنا تھا کہ کسی مذہبی گروپ کو دوسروں کی زندگیوں کو خلل میں ڈالنے کا کوئی جواز نہیں۔ فلسطینیوں کی مساجد سے گونجنے والی اذان کی آوازیں یہودیوں کے سکون میں خلل پیدا کرتی ہیں۔ جسے کسی صورت میں قابل قبول قرار نہیں دیا جاسکتاہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ نیتن یاھو کی جانب سے مساجد اور اذانوں کے خلاف زہر افشانی دراصل مساجد کےقیام اور اذانوں پرپابندی کی راہ ہموار کرنے کی گھناؤنی سازش کا حصہ ہے۔ نیتن یاھو اس نوعیت کے متنازع بیانات کے ذریعے مساجد اور اذانوں پرپابندی کی راہ ہموار کررہے ہیں۔
