(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل کے ذرائع ابلاغ نےانکشاف کیا ہے کہ بعض فلسطینی تاجروں کے اسرائیلی کاروباری شخصیات کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں اور وہ آپس میں تجارتی نوعیت کے معاہدے بھی کرتےہیں۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل نواز فلسطینی تاجروں اور اسرائیلی سرمایہ کاروں کےدرمیان ہونے والے روابط کا بھانڈہ پھوڑا ہے اور بتایا ہے کہ حال ہی میں فلسطینی سرمایہ کاروں کے ایک وفد کی اسرائیل کی سرکردہ کاروباری شخصیت رامی لیوی سے ملاقات ہوئی جس میں دو طرفہ تجارتی تعلقات کے فروغ پر اتفاق کیا گیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی تاجروں نے اسرائیلی کاروباری شخصیت مسٹرلیوی سے ملاقات کے دوران شمالی بیت المقدس میں ایک مشترکہ تجارتی مرکز کےقیام کے لیے اراضی خریدنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت شمالی بیت المقدس میں فلسطینی تاجروں رامی لیوی نے مل کر ایک تجارتی مرکز قائم کیا ہے۔ اپنی نوعیت کا یہ پہلا تجارتی مرکز ہے جس میں رام اللہ اور شمالی بیت المقدس کو باہم مربوط کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس تجارتی مرکز میں فلسطینی اور اسرائیلی سرمایہ کاروں نے 50.7 ملین ڈالر سے زیادہ کی رقم کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ رامی لیوی نے تجارتی مرکز میں 20 دونم [ 20 ہزار مربع میٹر] کی اضافی جگہ رام اللہ کے تاجروں کی مصنوعات کے لیے مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق فلسطینی اور اسرائیلی تاجروں کے اشتراک سے قائم کردہ یہ کاروباری مرکز بیت المقدس میں شہید فیصل الحسینی فٹ بال اسٹیڈیم سے محض 300 میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
خیال رہے کہ رامی لیوی اسرائیل کے سرکردہ کاروباری لوگوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ ان کے تجارتی مراکز کی ایک چین ہے جس میں 26 مراکز قائم ہیں۔ ان میں بعض تجارتی مرکز مقبوضہ مغربی کنارے کی یہودی کالونیوں میں بھی بنائے گئے ہیں۔
