رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نے کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ فوج اور پولیس کی کارروائیوں کے نتیجے میں غرب اردن اور بیت المقدس میں فلسطینیوں کی فدائی کارروائیوں میں کافی کمی آئی ہے مگر ایسے لگتا ہے یہ ایسے واقعات میں کمی محض عارضی ہے اور فلسطینیوں کی تحریک انتفاضہ کے محرک قوتیں کسی نئی منصوبہ بندی کے تحت اس تحریک کو آگے بڑھانے کے لیے کوشاں ہیں۔
کابینہ کے اجلاس کے دوران اسرائیل کی داخلی سلامتی کے ادارے’’شن بیٹ‘‘ کی جانب سے فلسطینیوں کی مزاحمتی کارروائیوں میں کمی کے حوالے سے ایک رپورٹ بھی پیش کی گئی تاہم وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس رپورٹ کے باوجود وہ نہیں سمجھتے کہ فلسطینی تحریک انتفاضہ کمزرو یا ختم ہوئی ہے بلکہ فلسطینی مزاحمت کار کسی نئے انداز میں تحریک آگے بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں۔ خدشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں فلسطینیوں کی مزاحمتی تحریک میں شدتی آسکتی ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ برس اکتوبر میں فلسطینی شہریوں نے دفاع قبلہ اوّل کے لیے انتفاضہ القدس کے عنوان سے ایک نئی تحریک شروع کی تھی جس میں صہیونیوں پر چاقو کے ذریعے حملوں کےساتھ دیگر ذرائع سے مزاحمتی تحریک کا آغاز کیا تھا۔ اسرائیلی فورسز کی جانب سے فلسطینی تحریک انتفاضہ کچلنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا گیا ہے اور اب تک دو سو سے زائد فلسطینی جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔
