رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ عالمی برادری وادی گولان پر اسرائیل کی عمل داری تسلیم کرتے ہوئے اسے صہیونی ریاست کا حصہ قرار دے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو نے اپنی کابینہ کا اجلاس وادی گولان میں منعقد کرکے یہ ثابت کردیا تھا کہ صہیونی ریاست شام سے چھینے گئے علاقے کو اسے واپس کرنے کو تیار نہیں ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں امن بات چیت میں کوئی حرج نہیں مگر بات چیت اسرائیل کے مفادات کےدائرے کے اندر ہی ہونی چاہیے۔ وادی گولان ہمیشہ کے لیے اب اسرائیل کا حصہ بن چکا ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیل نے وادی گولان پرسنہ 1967 ء کی چھ روزہ عرب۔ اسرائیل جنگ کے دوران عرب افواج کو شکست کے بعد قبضہ کرلیا تھا۔ سنہ 1981 ء میں اسرائیل کے وادی گولان کو باضابطہ طور پر اسرائیل میں شامل کرنے کا اعلان کیا مگرعالمی برادری وادی گولان پر اسرائیل کا ناجائز تسلط قبول کرنے کو تیار نہیں ہے۔
