رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم’’المیزان‘‘ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ حال ہی میں اسرائیلی فوجیوں نے بیت حانون گذرگاہ سے مغربی کنارے میں علاج کے لیے آنے والے ایک فلسطینی 40 سالہ فتحی شراب اسلیم کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلیم کا تعلق وسطی غزہ میں الصبرہ کالونی سے ہے اور وہ ایک خطرناک موذی مرض میں مبتلا ہے۔ غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی مسلط کردہ معاشی پابندیوں کے نتیجے میں علاج کی سہولت نہ ملنے کےباعث اسے مغربی کنارے میں علاج کے لیے جانا پڑا تھا مگر قابض فوجیوں نے اسے راستے ہی میں گرفتار کرلیا۔
انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ کسی فلسطینی مریض کی غزہ سے مغربی کنارے میں داخل ہوتے ہوئے گرفتاری کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ رواں سال غزہ کی پٹی سے غرب اردن علاج اور دوسرے مقاصد کے لیے جانے والے 7 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ان میں دو مریض تھے۔ بیان میں مزیدکہا گیا ہے کہ گذشتہ برس بیت حانون گذرگاہ سے اسرائیلی فوجیوں نے 44 فلسطینیوں کو حراست میں لیا۔ ان میں 4 مریض اور 30 کاورباری شخصیات شامل ہیں۔
