رپورٹ کے مطابق کلب برائے اسیران کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صہیونی حکام نے فلسطینی 21 سالہ یاسمین الزور کو فروری میں الخلیل شہر میں گولیاں مار کر شدید زخمی کیا۔ بعد ازاں اسے اسے اسی حالت میں حراست میں لے لیا گیا۔ گولیاں لگنے سے اس کی ٹانگوں اور جسم کے دوسرے حصوں پر گہرے زخم آئے ہیں۔
بیان میں بتایا گیا ہے کہ یاسمین الزور اس وقت اسرائیل کے ’’ھشارون‘‘ جیل میں پابند سلاسل ہے جہاں اسے ڈیڑھ ماہ گذر جانے کے باوجود کسی قسم کی طبی سہولت مہیا نہیں کی گئی ہے۔ کلب برائے اسیران کے مندوب کا کہنا ہے کہ انہوں نے ھشارون جیل میں یاسمین الزور کی حالت کا جائزہ لیا ہے۔ وہ شدت تکلیف کے باعث بیشتر اوقات میں بے ہوش رہتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یاسمین الزور کو فوری طور طبی سہولت فراہم نہ کی گئی تو اس کے نتیجے میں اس کی زندگی کو خطرات لاحق ہوسکتےہیں۔
