شام کے اس گرینڈ مفتی نے کہا کہ سن دوہزار گیار ہ سے دمشق کی حکومت غیرسرکاری طور پر اس خفیہ ڈیل کے پیغام موصول کررہی ہے، جس کے مطابق اگر شامی حکومت اسرائیل سے اپنی دشمنی ختم کرنے کے ساتھ ساتھ فلسطینی مقاومتی تنظیموں کو اپنی سرزمین سے نکالنے اور حزب اللہ سے تعلقات کو منقطع کرنے کا اعلان کرتی ہےتو ہم لڑائی روک دیں گے، شامی مفتی نے شدید غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہ کہا نام نہاد تکفیری تنظیمیں شام کے خلاف اسرائیل اور مغرب کی جنگ لڑرہی ہیں۔
انہوں نے کہا ماضی میں گریٹر شام کو تقیسم کرکے سیاسی بارڈر برطانیہ اور فرانس نے بنائے اور آج جو شام کو نشانہ بنارہے ہیں وہ مسلمان ہیں جو نہیں جانتے کہ وہ بیت المقدس کی آزادی کے نقطہ آغاز کو روکنے کی کوشیش کی ہے۔
شام کے اس جلیل قدر مفتی نے کہا کہ تکفیری تنظیمیں جو مسلمانوں کا خون اللہ کے نام پر بہا رہی ہیں نہیں جانتی کہ وہ اسرائیل کی خدمت کررہی ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ شام میں ان جنگجو گروہوں میں شامل ہورہے ہیں انہیں شام نہیں فلسطین جانا چاہیئے اورتیل ابیب کے خلاف جہاد کرنا چاہئے، حسنوں نے کہا کہ پورپ سے چالیس ہزار مسلمان شام میں لڑرہے ہیں ، یہ کیوں فلسطین کی آزادی کے لئے نہیں جاتے؟
