(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطینی شہریوں پراسرائیلی فوج آئے روزآنسوگیس کی بارش کرتی اور انہیں زخمی کرنے کا ظالمانہ مشغلے جاری رکھے ہوئے ہے مگرحال ہی میں صہیونی فوجیوں کےہاں آنسوگیس کا ایک دلچسپ استعمال بھی دیکھا گیا۔
رپورٹ میں بتایا ہے کہ حال ہی میں جنوبی بیت المقدس میں اسرائیلی فوجی ایک کیمپ میں لگے اپنے خیمے میں سو رہے تھے کہ انہیں جگانے کے لیے دوسروں نے بار بار آوازیں دیں مگر خیمے سے کوئی باہر نہ نکلا جس پر چھاتہ بردار دستے کے ایک سینیر عہدیدار نے خیمے پر آنسوگیس کا گولہ پھینکنے کا حکم دیا۔ حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ایک گولہ سوئے فوجیوں پر پھینک دیا گیا جس کے نتیجے میں خیمے کو آگ لگ گئی۔ خیمے کے جلنے کے ساتھ ساتھ اس میں سوئے ہوئے متعدد فوجی بھی جھلس گئے۔ کچھ دم گھٹنے سے بے ہوش بھی ہوئے۔رپورٹ کے مطابق اس واقعے کا تفصیلی احوال بیان کیا ہے اور لکھا ہے کہ سوئے ہوئے فوجیوں پر آنسوگیس کا گولہ ایک فوجی افسر کے حکم پر اس وقت پھینکا گیا جب جونیرفوجیوں کو بیدار کرنے کی تمام کوششیں رائیگاں گئی تھیں۔
رپورٹر نے کہا ہے کہ یہ واقعہ جنوبی فلسطین کے’’بتسلیم‘‘ نامی فوجی اڈے پر اس وقت پیش آیا جب فوجی اپنی ڈیوٹی کے اوقات تبدیل کررہے تھے۔ گولہ لگنے سے زخمی ہونے والے فوجی تربیتی مشقوں میں کے لیے وہاں بھیجے گئے تھے۔ آنسوگیس کا گولہ پھٹنے سے بعض شدید زخمی ہوئے ہیں۔ صہیونی فوجیوں کو اپنے افسروں کی جانب سے نیند سے بیدار کرنے کے اس انوکھے اقدام پر اسرائیلی سیاسی اور ابلاغی حلقوں میں بھی بحث جاری ہے۔ سوشل میڈیا پربھی اس خبر کو بھرپور کوریج دی گئی ہے۔
