(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے پرنس ولید بن طلال نے اسرائیل کے سرکاری اہلکاروں کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی کے حوالے سے باقاعدہ مفاہمتی یاداشت پر دستخط کردیئے ہیں۔
اسرائیل کی ڈپٹی وزیربرائے امور خارجہ نے کہا کہ آج ہمیں یہ دیکھ کر خوشی ہورہی ہے کہ عرب ریاستوں نے اسرائیل کے حوالے سے اپنے خیالات تبدیل کردیئے ہیں اور اب وہ اسرائیل کو اپنا دشمن نہیں سمجھتے ۔انہوں نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا کہ ہمیں ماضی کی تلخ یادوں کو مٹا کر عرب ریاستوں کی ترقی کے لئے انہیں جمہوریت سے آشانہ کرانا ہوگا۔
دوسری جانب سعودی عرب کے پرنس طلال نے کہا کہ میں سعودی عرب کی جانب سے اسرائیل جیسے خوب صورت ملک کا سفیر بنے پر فخر محسوس کررہا ہوں، اسرائیل دنیا کے سب سے خطرناک اور پرتشدد علاقہ میں امن کا جزیرہ ہے، کھربوں کی مالیت رکھنے والے اور میڈیا ٹائکوں پرنس طلال نے کہا کہ آج ہمیں مشرق وسطیٰ کے امن کے لئے راہ ہموار کرنی ہوگی جہاں آنے والی نسلیں مذہبی اور حیر ت انگیز آہنگی کے ساتھ رہے سکیں۔
پرنس طلال بن ولید نے 2002 میں بیروت میں منعقد ہونے والی عرب لیگ کی کانفرنس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سعودی بادشاہت دو ریاستی حل کے تحت اسرائیل کو بحثیت یہودی ریاست تسلیم کرچکی ہے ،لیکن اس روش مستقبل میں سب سے بڑی رکاوٹ ایران ہے۔
سعودی عرب نے اسرائیل میں اپنے سفارت خانے کی عرض سے ڈیوڈ فلسر اسٹریٹ ۱۴ یروشلم میں امریکی سفارت خانے کے ساتھ تین مالہ شاندار بلڈنگ خریدی ہےجبکہ سرکاری ضیافت کے لئے سعودی شہزادہ نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو، اسرائیلی صدر ریولن اور دیگر وزراٗ سے رابطہ شروع کردیئے ہیں۔
جبکہ گذشتہ ہفتہ اسرائیل کے ایک سرکاری اہلکار نے انکشاف کیا تھا کہ سعودی عرب نے 1978 میں اسرائیل اور مصر کے درمیان دستخط ہونے والے امن معاہدے کی شرائط کے ارتکاب کرنے کا وعدہ بھی کیا تھا
