(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل کے بائیکاٹ کی عالمی مہم کے تحت وسطی یورپ کے ملک سلوانیا کے تجارتی ادارے بھی صہیونی ریاست کے بائیکاٹ میں شامل ہوگئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سلوانیا کے سب سے بڑے تجارتی چین’مرکٹور‘‘ نے اسرائیل کے تجارتی بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ’’مرکٹور‘‘ نامی تجارتی ادارے نے اسرائیل کے تجارتی بائیکاٹ کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب کہ دوسری جانب یورپ سمیت دنیا کے مختلف ملکوں میں اسرائیل کے بائیکاٹ کے لیے BDS نام سے ایک تحریک جاری ہے۔ ’مرکٹور‘ نے اسرائیلی کی ممنوعہ مصنوعات کی ایک فہرست جاری کی ہے جس میں خشک میوہ جات اور کھجور بھی شامل ہیں۔ ’’مرکٹور‘‘ نے ملک بھرمیں موجود اپنے درجنوں اسٹوروں پران کی خریدو فروخت پرپابندی عائد کردی ہے۔خیال رہے کہ مرکٹور سلوانیا کا سب سے بڑا تجارتی نیٹ ورک ہے جس میں حکومت کےشیئرز بھی شامل ہیں۔ سلوانیا میں صہیونی مصنوعات کے بائیکاٹ سے اسرائیل کی یورپ میں تجارتی سرگرمیوں کو بہت بڑا دھچکا لگا ہے۔
رپورٹ میں بتایا ہے کہ سلوانیا میں اسرائیل کے تجارتی بائیکاٹ پرصہیونی ریاست سخت غم وغصے میں ہے۔ گذشتہ روز اسرائیلی وزارت خارجہ نے اپنےہاں متعین سلوانیا کے سفیر کو طلب کرکے تجارتی بائیکاٹ پراحتجاج کیا ہے۔
اسرائیلی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ اسی ہفتے سلوانیا کی حکومت سے براہ راست اس معاملے پر بات چیت کرے گی۔ رپورٹ کے مطابق سلوانیا میں متعین صہیونی سفیر جلد ہی اسرائیلی وزارت خارجہ کے نمائندوں سے مذاکرات کریں گے اور ’مرکٹور‘ کےبائیکاٹ کا فیصلہ واپس لینے کے لیے سلوانیا کی حکومت پر دباؤ ڈالیں گے۔
