رپورٹ میں بتایا ہے کہ پارلیمنٹ کی آئینی کمیٹی نے اپنے طورپر جسمانی تلاشی یا جسمانی تفتیش سے متعلق قانون کو حتمی شکل دے دی ہے جسے جلد ہی پارلیمنٹ میں بحث اور رائے شماری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ اخبار لکھتا ہے کہ اسرائیلی اپوزیشن جماعتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس قانون کی سخت مخالفت کی ہے اور امکان ہے کہ پارلیمنٹ میں بھی اس قانون کی سخت مخالفت کی جائے گی۔
رپورٹ کے مطابق جسمانی تلاشی کے قانون کی منظوری کے بعد صہیونی پولیس اور فوج کو کسی بھی فلسطینی کو بغیر شبے کے بھی تلاشی لینے اور نہیں نیم عریاں کرنے کا اختیار حاصل ہوجائے گا۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں کہا گیا ہے کہ یہ ایک ہنگامی قانون ہے جو دول سال کے لیے نافذ کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ فلسطینیوں کی جسمانی تلاشی کے قانون کی عدم موجودگی کے باوجود صہیونی فوجی اور انٹیلی جنس اہلکار فلسطینیوں کو نیم عریاں کرکے ان کی تلاشی لیتے رہے ہیں۔ اس قانون کی مںظوری کے بعد اسرائیلی فوجی جس فلسطینی کے بارے میں چاہیں گے اسے نیم عریاں کرکے اس کی تلاشی لیں گے اور اس کے جیبوں میں موجود ہر چیز کو نکالنے کے مجاز ہوں گے۔
اسرائیل میں یہ متنازع قانون ایک ایسے وقت میں منظوری کے لیے تیار کیا جا رہا ہے جب فلسطین میں تحریک انتفاضہ جاری ہے۔ اس تحریک کے دوران فلسطینی شہریوں نے چاقوؤں سے صہیونی دشمن پر حملوں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ یہ قانون فلسطینیوں کو دستی ہتھیاروں سے غیر مسلح کرنے کا ایک نیا حربہ ہے۔
