رپورٹ کے مطابق فریقین میں ہونے والی بات چیت میں تحریک انتفاضہ روکنے کے بدلے میں کچھ شرائط بھی عائد کی گئی ہیں۔ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے یہ شرط رکھی گئی ہے کہ اسرائیل تمام فلسطینی علاقوں میں اقتصادی سہولیات مہیا کرے جبکہ اسرائیل نے فلسطینی اتھارٹی سے کہا ہے کہ وہ یہودی آباد کاروں پر فلسطینیوں کی جانب سے ہونے والے حملوں کی مذمت کرے۔
اسرائیلی وزیر موشے کحلون نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ حال ہی میں بیت المقدس میں ان کی ملاقات فلسطینی وزیر خزانہ شکری بشارہ، شہری امور کے وزیر اور صدر محمود عباس کے مقرب خاص حسین الشیخ اور کئی دوسرے عہدیداروں سے ہوئی۔ اجلاس میں تحریک انتفاضہ روکنے اور اس کے متبادل آپشنز پر تفصیل سے غور کیا گیا۔ اس موقع پر فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے زور دیا گیا کہ اسرائیل تحریک انتفاضہ روکنے کے بدلے میں فلسطینی علاقوں کو اقتصادی مراعات دے جب کہ اسرائیلی حکام کی جانب سے فلسطینی اتھارٹی سے کہا گیا کہ وہ فلسطینیوں کی انفرادی مزاحمتی کارروائیوں میں یہودی آباد کاروں اور فوجیوں پر حملوں کی مذمت کرے۔
موشے کحلون نے بتایا کہ بات چیت کے دوران فلسطینی وفد نے اسرائیلی حکام سے کہا کہ صہیونی ریاست مغربی کنارے میں بے روز گاری کم کرنے اور انفراسٹرکچر کی بہتری میں حصہ لینے کے لیے فلسطینی شہریوں کو بھی روزگار فراہم کرے۔ اس موقع پر اسرائیلی عہدیداروں نے شکایت کی کہ صدر محمود عباس فلسطینی مزاحمت کاروں کی کارروائیوں کی مذمت نہیں کرتے ہیں۔
خیال رہے کہ پچھلے چار ماہ میں فلسطین میں جاری تحریک کے دوران اب تک ڈیڑھ سو سے زائد فلسطینی شہید اور ستائیس یہودی ہلاک ہوچکےہیں۔ اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان تحریک انتفاضہ کے خلاف گٹھ جوڑ کی خبریں پہلی بار سامنے نہیں آئی ہیں بلکہ اس نوعیت کی خبریں آئے روز سامنے آ رہی ہیں۔
