قابض اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایتمار میں فائرنگ کے واقعہ میں ملوث حماس کے سیل کو گرفتار کر لیا ہے۔ ایتمار میں ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں اسرائیلی فوجی افسر اور اس کی بیوی کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا۔
اسرائیلی میڈیا ذرائع کے مطابق اس سیل میں پانچ افراد شامل ہیں جو کہ تمام مغربی کنارے کے شہر نابلس کے رہائشی ہیں۔ ان تمام پانچ افراد کو ہفتہ اور اتوار کے روز اسرائیل کی جانب سے چلائی جانے والی حراستی مہم کے دوران حراست میں لیا گیا تھا۔اسرائیلی ذرائع کے مطابق گروپ کے سربراہ کی شناخت 37 سالہ راغب احمد محمد علاوی کے نام سے کی گئی ہے۔ اسرائیل کی داخلہ سیکیورٹی کی ذمہ دار تنظیم ‘شن بیت’ کے مطابق راغب نے ان تمام افراد کو بھرتی کرکے انہیں ہتھیاروں کی ٹریننگ دی تھی۔
ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ تمام پانچ افراد اس کے علاوہ دیگر کارروائیوں میں بھی ملوث پائے گئے ہیں۔
گروپ کے ایک اور ممبر کو نابلس میں ایک ہسپتال سے سادہ لباس میں ملبوس اسرائیلی اہلکاروں نے حراست میں لیا تھا جہاں اسے طبی امداد دی جارہی تھی۔ فلسطینی شہریوں نے اس شخص کو حراست میں لئے جانے کی پرتشدد کارروائی کی وڈیو کو انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کردیا ہے۔
اسرائیلی ادارے شن بیت کے مطابق تمام پانچ ملزمان کا تعلق حماس سے ہے۔ اسرائیلی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سیل کی حراست اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان جاری سیکیورٹی تعاون کا نتیجہ ہے۔
