اسرائیل کےعبرانی ذرائع ابلاغ نےاطلاع دی ہے کہ صہیونی حکام یورپی یونین میں صہیونی مصنوعات کے بائیکاٹ پرسخت پریشان ہے۔ تل ابیب حکومت نے یورپی ممالک سےمطالبہ کیا ہےکہ وہ اسرائیل کے اقتصادی بائیکاٹ کی روک تھام کے لیے قانون سازی کریں۔
خیال رہے کہ اسرائیل کی جانب سےاپنے یورپی بہی خواہوں سے یہ اپیل ایک ایسے وقت میں کی ہےجب فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ جاری امن عمل کی ناکامی کی صورت میں اسرائیل کے عالمی بائیکاٹ کے امکانات بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔
اخبار”معاریف” کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکومت جلد ہی یورپی یونین کے اپنے دوست ملکوں کو یہ پیغام بھجوائے گی جس میں ان سے کہا جائے گا کہ وہ اسرائیل کا اقتصادی بائیکاٹ روکنے کے لیے اپنے ہاں قانون سازی کریں۔
رپورٹ کے مطابق حال ہی میں وزیراعظم نیتن یاھو کی زیرصدارت کابینہ کے اجلاس میں بھی یورپی یونین میں اسرائیل کے اقتصادی بائیکاٹ کا معاملہ زیربحث آیا کابینہ کی جانب سے کہا گیا کہ وزیراعظم یورپی ممالک میں متعین اپنے سفیروں کے ذریعے وہاں کی حکومتوں سے کہیں کہ وہ اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ روکنے اور اسرائیل کوعالمی تنہائی سے بچانے کےلیے آئین سازی کریں۔
واضح رہے کہ اسرائیل کو امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے گذشتہ ہفتے میونخ میں عالمی امن فورم سے خطاب کرتےہوئے کہا تھا کہ امن عمل ناکام ہوا تو اس کی ذمہ داری اسرائیل پرعائد ہوگی اور صہیونی ریاست کو عالمی تنہائی سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
