رپورٹ کے مطابق فلسطینی حکومت کی غزہ کی ناکہ بندی کے خاتمے اور غیرملکی وفود کی استقبالیہ کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں ترکی میں ہونے والی اسلامی سربراہی کانفرنس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی کی ناکہ بندی ختم کرانے کے لیے ٹھوس فیصلے کرے۔
کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ترکی میں جمع ہونے والے اسلامی ممالک کے رہنماؤں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ان کی ترجیحات میں غزہ کی پٹی کی ناکہ بندی کا خاتمہ بھی شامل ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی حکومت کی طرف سے گذشتہ 10 سال سے معاشی پابندیاں مسلط کی گئی ہیں جن کے نتیجے میں دو ملین سے زائد آبادی بدترین انسانی المیے کا سامنا کررہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل کی مسلط کردہ جنگوں نے غزہ کے عوام کی پسماندگی اور مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے۔ ایسے میں عالمی اسلام کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ غزہ کی ناکہ بندی کے خاتمے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ عالم اسلام فلسطینیوں کے حقوق لیے موثر فیصلے کرے۔ فلسطینیوں کی آزادی کے لیے ٹھوس لائحہ عمل مرتب کیا جائے۔ فلسطینی کمیٹی کا کہنا ہے کہ فلسطین اسلامی تعاون تنظیم کا رکن ہونے کے باوجوداسلامی دنیا فلسطینیوں کے مسائل کے حل میں بری طرح ناکام رہی ہے۔
غزہ کی پٹی پر نہ صرف اسرائیل نے پابندیاں عائد کر رکھی ہیں بلکہ پڑوسی ملک مصر نے بھی غزہ کا ناطقہ بند کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ہے۔ سنہ 2014 ء کے بعد غزہ کی پٹی کی واحد بین الاقوامی گذرگاہ رفح 500 دن سے مسلسل بند ہے۔
