(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) ہفتے کے روز اسرائیل کے دو جنگی طیاروں نے مصر کا ایک مسافر بردار ہوائی جہاز اس وقت اتار لیا جب طیارے کی جانب سے وارننگ کے بعد یہ وضاحت نہ کی گئی وہ کہاں سے آیا ہے اور اس کی اگلی منزل کہاں ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق مصر کا سیناء نامی ایک پرائیویٹ کمپنی کا طیارہ اسرائیل کی فضاء سے گذرنے لگا تواسرائیلی شہری ہوا بازی کی جانب سے طیارے کے عملے سے رابطے کی کوشش کی گئی تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ آیا طیارہ کہاں سے آیا ہے تاہم ہوائی جہاز کی جانب سے کسی قسم کی وضاحت نہیں کی گئی جس کے بعد مسافر طیارے کو اسرائیل کے دو جنگی طیاروں نے گھیرے میں لے لیا اور اسے اسرائیل کے’’بن گوریون‘‘ ہوائی اڈے پراتار لیا۔ اس سارے آپریشن میں تمام مسافر اور جہاز کا عملہ محفوظ رہےہیں۔خیال رہے کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے مصر کی جس فضائی کمپنی کے طیارے کو اتار وہ تل ابیب سے قاہرہ کے درمیان بھی مسافر پروازیں چلاتی ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایسا طیارے کی جانب سے وضاحتی سگنل نہ ملنے کے بعد کیا ہے جب کہ ’’سینا فضائی کمپنی‘‘ کا موقف ہے کہ وہ اسرائیل کے جنگی طیاروں کو تمام ضروری وضاحت فراہم کرتے رہے تاہم اس کے باوجود انہوں نے مسافرجہاز کو روک کراسے اتار لیا۔
عبرانی اخبار "یدیعوت احرونت” کی ویب سائیٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مصری ہوائی جہاز کا اسرائیلی کنٹرول روم کے ساتھ وائرلیس رابطہ منقطع ہونے کے بعد جہاز کو اتاراگیا۔
