رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ میں قطر کی مستقل خاتون مندوبہ علیاء بن سیف آل ثانی نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کی پٹی پرعائد اسرائیلی پابندیوں، فلسطین میں یہودی توسیع پسند، مقدس مقامات تک رسائی میں رکاوٹیں، مقدسات کی بے حرمتی اور فلسطین کے اسلامی اور عرب تشخص پرحملوں کا تسلسل سنگین نتائج پرمنتج ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی ادارے بالخصوص اقوام متحدہ فلسطین میں عالمی قوانین کی عمل داری اور عالمی قراردادوں پرعمل درآمد میں ناکام رہی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ سلامتی کونسل فوری اور سخت اقدامات کرتےہوئے غزہ کی پٹی پرعائد پابندیوں کا خاتمہ کرائے۔
علیاء بن سیف آل ثانی کا کہنا تھا کہ اسرائیل عالمی قوانین کی کھلے عام پامالیوں کا مرتکب ہو رہا ہے مگرعالمی ادارے صہیونی ریاست کو نکیل ڈالنے میں بری طرح ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ فلسطینی قوم ایک غاصب ریاست کےہاتھوں مسلسل عدم تحفظ کا شکار ہے۔ فلسطینیوں کا قومی تشخص، ان کی نسل، شہر اور چیز صہیونیت کے خطرے کا سامنا کررہی ہے۔
قطری سفیرہ کا کہنا تھاکہ عالمی برادری غزہ کی پٹی کے جنگ سے متاثرہ شہریوں کو امداد فراہم کرنے کے اپنے وعدے پورے کرنے میں بھی ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قطرنے غزہ کےعوام کے ساتھ کیے وعدے پورے کیےہیں۔ قطر اب تک غزہ کی پٹی میں 230 ملین ڈالر کے منصوبے مکمل کرچکا ہے۔ ان میں غزہ میں الشیخ حمد سٹی کے نام سے 1060 رہائشی مکانات کی تعمیر، صنعتی کارخانے اور ایک بڑا اسپتال بھی تعمیر کیا گیا ہے۔
