اردن کی مختلف سماجی تنظیموں کی نمائندہ دفاع وطن کمیٹی و اسرائیلی بائیکاٹ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حال ہی میں اسرائیلی فوجیوں کے حملے میں جج رائد زعتیر کی شہادت کے رد عمل میں اردنی پارلیمنٹ نے اسرائیلی سفیر کی بے دخلی کا درست مطالبہ کیا ہے۔ دفاع وطن کمیٹی اس مطالبے کو حق بہ جانب قرار دیتے ہوئے اس پر فوری عمل درآمد کا مطالبہ کرتی ہے۔
دفاع وطن کمیٹی کی جانب سے اردن کی پارلیمانی کمیٹی کو ایک مکتوب بھی ارسال کیا گیا ہے جس میں اسرائیلی سفیر کی بے دخلی کے مطالبے کے ساتھ اسرائیل سے ہرقسم کے تعلقات ختم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل سے تعلقات کا قیام اردنی قوم کے لیے باعث عار ہے۔ ہم ایک آزاد اور خود مختار قوم ہیں۔ اسرائیل کے باجگزار نہیں ہیں کہ اس کے کہنے پر ہم تعلقات قائم کریں۔ ہم عمان حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ صہیونی ریاست کے ساتھ کیے گئے امن معاہدہ کی منسوخی کا اعلان کرے۔
خیال رہے کہ حال ہی میں اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اپنے خاندان سے ملنے کے لیے آنے والے ایک اردنی جج کو گولیاں مار کر شہید کر دیا تھا، جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان سخت کشیدگی پیدا ہوئی تھی۔ اردن کے سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے اسرائیل سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کے مطالبات تیز کر دیے ہیں۔ اس مطالبے میں اردنی پارلیمنٹ بھی اب شامل ہو گئی ہے۔ پارلیمنٹ کے ایک حالیہ اجلاس میں عمان حکومت سے اسرائیل سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
