اسرائیلی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ امریکی کانگریس اگلے ہفتے اسرائیلی شہریوں کو بغیر ویزے کے ملک میں داخل ہونے کے معاملے پر غور کررہی ہے۔ امریکی جج کے ایک فیصلے میں اسرائیلی شہریوں کو نوے دن سے کم قیام کی صورت میں ویزے سے استثنا دینے کی ہدایت کی جا چکی ہے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل امریکی ایوان نمائندگان اسرائیلی شہریوں کو ویزے سے استثنی دینے کی حمایت کر چکا ہے۔ تاہم اس وقت کانگریس نے اس تجویز کو رد کردیا تھا۔
صہیونی ذرائع کے مطابق توقع ہے کہ امریکی کانگریس اسرائیلی شہریوں کے لیے ویزے کا استثنا تسلیم کرلے گی۔ کثیر الاشاعت اسرائیلی روزنامے ”یدیعوت احرونوت” کے مطابق اس سے قبل سینیٹ نے جن بنیادوں پر امریکا کو اسرائیلی شہریوں کے لیے ویزہ فری ملک بنانے سے انکار کیا تھا وہ امریکا کی جانب سے اسرائیل سے کچھ مطالبات تھے جن کو ماننے سے اسرائیلی حکومت نے انکار کردیا تھا۔
اسرائیلی روزنامے نے بتایا کہ امریکا چاہتا تھا کہ امریکا میں داخل ہونے والے صہیونییوں کی نسبت تین فیصد سے زیادہ نہ ہو،اسرائیل اپنے ویزے کو الیکٹرونک ویزے سے تبدیل کرے جس میں مسافر کی تمام معلومات موجود ہو۔ اسی طرح اسرائیل امریکا کے فلسطینی نژاد شہریوں کو بالکل اسی طرح اپنے ملک میں داخل ہونے کی اجازت دے جیسے عام امریکی شہریوں کو دی جاتی ہے اور یہ فلسطینی اسرائیل میں عام امریکی شہری کی حیثیت سے سفر کر سکے۔ تاہم اسرائیلی حکومت نے ان تجاویز پر عمل نہیں کیا تھا جس کے باعث وہ امریکا کے ویزہ فری پروگرام کا حصہ نہ بن سکا تھا۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
