رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے عبرانی ٹی وی 2 نے ایک ہفتے پر محیط رائے عامہ کا ایک جائزہ لیا ہے جس میں اہم سیاست دانوں بالخصوص وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کی عوامی مقبولیت چیک کی گئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نیتن یاھو کی عوامی مقبولیت میں غیرمعمولی کمی آئی ہے۔ انہوں نے کل حاصل کردہ عوامی حمایت میں صرف 15 فی صد ووٹ لیے ہیں جب کہ ان کے مقابلے میں سابق وزیرخارجہ اور "اسرائیل بیتنا” نامی انتہا پسند سیایس جماعت کے سربراہ آوی گیڈور لائبرمین کی عوامی مقبولیت جو ایک ہفتہ قبل 22 فی صد تھی بڑھ کر 29 فی صد تک جا پہنچی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کے 72 فی صد شہری وزیراعظم نیتن یاھو اور ان کی کابینہ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہودیوں کی اکثریت فلسطین میں جاری کشیدگی میں موجودہ اسرائیلی حکومت کو پہلا قصور قرار دیتی ہے۔
خیال رہے نیتن یاھو کے مقابلے میں انتہا پسند سیاست دان آوی گیڈور کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ گیڈور 31 مارچ 2009 ء سے 3 مارچ 2015 ء تک نیتن یاھو کے دور حکومت میں ان کے وزیرخارجہ رہ چکے ہیں۔ حال ہی میں آوی گیڈور نے نیتن یاھو کی حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ فلسطین میں جاری موجودہ فلسطینی تحریک انتفاضہ پچھلے سال غزہ کی پٹی پر مسلط کی گئی جنگ کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔ چونکہ اس جنگ میں حماس کو مکمل طورپر کچلنے کا فیصلہ کیا گیا تھا مگر صہیونی حکومت دو ماہ تک جاری رہنے والی اس جنگ میں حماس کو ختم کرنے میں ناکام رہی تھی۔
ٹی وی رپورٹ میں 11 فی صد رائے دہندگان نے "جیوش ہوم” نامی تنظیم کےسربراہ نفتالی بینت کی حمایت کی ہے جب کہ 17 فی صد نے اسرائیل کے موجودہ آرمی چیف کی حمایت کررہے ہیں۔
یہ سروے جائزہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب فلسطین میں پچھلے دو ہفتوں سے اسرائیلی فوج اور فلسطینیوں کے درمیان پرتشدد واقعات کا سلسلہ جاری ہے۔ اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی میں 45 فلسطینی شہید اور 2000 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں جب کہ فلسطینیوں کے حملوں میں آٹھ یہودی ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔