(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) ناروے کے نائب وزیر خارجہ آندریاس کراوِک نے کہا ہے کہ قابض اسرائیل کی تباہ کن پالیسیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے دنیا کو فوری طور پر مزید مضبوط سفارتی اتحاد قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب اقوام متحدہ کی متعدد ایجنسیوں نے غزہ میں قحط کی سنگین صورتحال کی تصدیق کی ہے۔
ناروے کے نائب وزیر خارجہ نے الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ قطعی طور پر ناقابلِ قبول اور عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قابض اسرائیلی حکومت نے غزہ کے نہتے شہریوں پر ایک وحشیانہ جنگ مسلط کر رکھی ہے اور اسے بین الاقوامی قوانین کے کم سے کم تقاضوں کا بھی کوئی خیال نہیں۔
دو روز قبل عالمی ادارہ صحت، یونیسیف، عالمی خوراک پروگرام اور ادارہ برائے خوراک و زراعت نے ایک مشترکہ بیان میں انکشاف کیا تھا کہ غزہ میں پانچ لاکھ سے زائد افراد شدید قحط کا شکار ہیں۔ اسی کے ساتھ عالمی سطح پر خوراک اور غذائی قلت کا جائزہ لینے والی تنظیم آئی پی سی نے اپنی تازہ رپورٹ میں تصدیق کی ہے کہ غزہ میں قحط تیزی سے پھیل رہا ہے اور آئندہ ماہ کے آخر تک دیر البلح اور خان یونس کے علاقے بھی اس کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔
ناروے کے نائب وزیر خارجہ نے بتایا کہ ان کی حکومت نے فلسطینی عوام کے مصائب کو کم کرنے کے لیے کئی عملی اقدامات کیے ہیں جن میں قابض اسرائیل کے انتہا پسند وزراء بزلیل سموٹرچ اور ایتمار بن گویر پر پابندیاں عائد کرنا بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ ناروے کی حکومت اپنی کمپنیوں کو ہدایت دے رہی ہے کہ وہ غرب اردن میں غیر قانونی صیہونی بستیوں سے متعلق کسی بھی تجارتی سرگرمی میں حصہ نہ لیں۔
انہوں نے قابض اسرائیلی وزیر خارجہ جدعون ساعر کے ان بیانات کو سختی سے مسترد کر دیا جن میں انہوں نے یورپ پر زور دیا تھا کہ وہ یا تو قابض اسرائیل کا ساتھ دے یا حماس کا۔ آندریاس کراوِک نے کہا کہ یہ موازنہ بالکل بے بنیاد ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ قابض اسرائیل ساتھ اکتوبر 2023 کے واقعات کو جواز بنا کر ایسے اقدامات کر رہا ہے جو عالمی قوانین کی سراسر خلاف ورزی ہیں۔ تل ابیب اپنے اقدامات سے دراصل فلسطینی ریاست کے قیام کے تمام امکانات کو ختم کر رہا ہے۔
ناروے کے نائب وزیر خارجہ نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ یہ راستہ نہ تو قابض اسرائیل کی سلامتی کو یقینی بنائے گا اور نہ ہی اس کی سرحدوں کو تحفظ فراہم کرے گا، بلکہ اسے ایک "بدمعاش ریاست” میں تبدیل کر دے گا۔
واضح رہے کہ قابض اسرائیل کی نسل کشی پر مبنی اس جنگ میں اب تک باسٹھ ہزار چھ سو چھیاسی فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں اکثریت بچوں اور خواتین کی ہے۔ ایک لاکھ ستاون ہزار نو سو ستاون افراد زخمی
نو ہزارسے زائد لاپتہ ہیں جبکہ لاکھوں فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں۔ صرف قحط کے باعث اب تک دو سو اناسی فلسطینی اپنی جان گنوا چکے ہیں جن میں ایک سو پندرہ معصوم بچے شامل ہیں۔