(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) یمن میں حوثی تحریک انصار اللہ کے رہنما عبدالملک الحوثی نے کہا ہے کہ قابض اسرائیل کی درندگی تمام انسانی اور اخلاقی اصولوں سے انحراف ہے اور یہ انسانی و اخلاقی دیوالیہ پن ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ فلسطین کے معاملے پر دو ارب مسلمانوں کا شرمناک رویہ انتہائی ذلت آمیز ہے۔
عبدالملک الحوثی نے بیان میں کہا کہ قابض اسرائیل روزانہ ایسے فلسطینیوں کا قتلِ عام کر رہا ہے جو صرف اپنے لیے خوراک حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، بھوک کو جبر اور کنٹرول کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی اعترافات جن میں ان فوجیوں کی شہادتیں بھی شامل ہیں جو نام نہاد سکیورٹی آپریشن میں شامل تھے امریکہ کے مجرمانہ رویے اور قابض اسرائیل کے ساتھ اس کی ملی بھگت کو بے نقاب کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قابض اسرائیل اپنے جرائم کو غزہ انسانی تنظیم اور امدادی سکیورٹی جیسے انسانی عنوانات کے ذریعے چمکانے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ حقیقت اس کے ارادی جرائم اور جارحیت کی عکاسی کرتی ہے۔ بھوک کے ذریعے نسل کشی کو مشرق وسطی اور عالمی سطح پر ایک ہولناک اور انوکھا جرم قرار دیا۔
الحوثی نے کہا کہ قابض اسرائیل نے غزہ کے اٹھانوے فیصد زرعی ڈھانچے کو تباہ کر دیا ہے، زرعی شعبے کو مکمل طور پر مفلوج کر دیا اور فلسطینی شہریوں کو ان کی بنیادی خوراک تک رسائی سے روک دیا ہے۔
انصار اللہ (حوثیوں)سے وابستہ یمنی افواج غزہ پٹی میں مزاحمت کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں اور یہ گذشتہ دو سالوں سے جاری سفاک اسرائیلی فوج کی نسل کشی مہم کے دوران فلسطینی عوام کی مدد کر رہے ہیں۔ وہ بحیرہ احمر میں غاصب اسرائیلی اور اس کے اتحادیوں کے جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔