اسرائیل نے ترکی کے دارالحکومت انقرہ اور بڑے شہر استنبول میں صہیونی فوج کی غزہ پر جارحیت کے خلاف شہریوں کے سخت احتجاج کے بعد بیشتر سفارتی عملے کو واپس بلا لیا ہے۔
مشتعل ترک مظاہرین نے انقرہ میں اسرائیلی سفارت خانے پر احتجاج کے دوران پتھراؤ کیا ہے اور صہیونی سفیر کی رہائش گاہ پر فلسطینی پرچم لہرا دیا۔استنبول میں بھی ترک مظاہرین نے اسرائیلی قونصل خانے پر پتھراؤ کیا ہے۔ ان مظاہروں کے بعد اسرائیلی وزارت خارجہ نے ترکی میں تعینات سفارتی عملے کی تعداد میں کمی کر دی ہے اور سفارت کاروں کے خاندانوں کو ملک واپسی کی ہدایت کی ہے۔
وزارت خارجہ نے ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن پر مظاہرین کو اسرائیلی جارحیت کے خلاف احتجاج کی شہ دینے کا الزام عاید کیا ہے۔ رجب طیب ایردوآن نے بدھ کو ایک بیان میں صہیونی ریاست پر پورے خطے کو دہشت زدہ کرنے کا الزام عاید کیا تھا اور ایک اسرائیلی رکن پارلیمان اور حکومتی اتحادی کو ہٹلر سے تشبیہ دی تھی۔
انھوں نے جمعہ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل ہمیشہ سے جارح رہا ہے اور اس نے ظلم جاری رکھا ہوا ہے۔ جب تک میں وزیراعظم کی حیثیت میں فرائض انجام دے رہا ہوں،اس وقت تک اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں کسی مثبت پیش رفت کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا ہے۔
ترک وزیراعظم نے واضح کیا ”اہل مغرب یہ کہہ سکتے ہیں کہ میں کشیدگی کو ہوا دے رہا ہوں لیکن میں لوگوں اور اللہ کی منشا جیتنے کے مشن پر عمل پیرا ہوں”۔ وہ فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج کی ننگی جارحیت کے خلاف سخت بیانات جاری کر رہے ہیں جس پر اسرائیلی قائدین تلملا رہے ہیں۔
ترک صدر عبداللہ گل نے بھی ایک مرتبہ پھر اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے غزہ پر جارحیت نہ روکی تو اس کے بہت سنگین مضمرات ہوں گے۔ انھوں نے استنبول میں فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف کوئی موقف اختیار کرے۔
ہزاروں ترک مظاہرین نے نماز جمعہ کے بعد استنبول میں اسرائیلی مشن کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ پولیس نے انھیں منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے اور پانی کا استعمال کیا لیکن انقرہ میں مظاہرے کے دوران کوئی مداخلت نہیں کی۔ وہاں مظاہرین نے اسرائیلی سفیر کی رہائش گاہ کی کھڑکیوں کے شیشے توڑ دیے ہیں۔ وہ اسرائیل کے خلاف سخت نعرے بازی کر رہے تھے۔
استنبول میں صہیونی فوج کی غزہ پر جارحیت کے خلاف احتجاج میں شریک ایک خاتون کا کہنا تھا کہ:”جب تک اسرائیلی سفارت خانے بند نہیں کر دیے جاتے،اس وقت تک یہ مظاہرے جاری رہیں گے۔ میں ان احتجاجی مظاہروں میں شرکت کروں گی اور ابھی تو میں نے غزہ میں قتل عام کے خلاف غصے کا اظہار شروع بھی نہیں کیا ہے”۔واضح رہے کہ ترک شہریوں میں غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف شدید غیظ وغضب پایا جا رہا ہے۔